Wednesday, May 18, 2016

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال

Same Composing mistakes  u used " ے" instead of  "ی" 
 This left all the piece un readable.
 This is report which needs sources to be quoted, some attribution and quotes from related people

سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 1

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال
صفائی نصف اےمان ہے "ےعنی صفائی آدھا اےمان ہے"کسی بھی ترقی ےافتہ معاشرے مےں صفائی کا خاص خےال رکھا جاتا ہے چاہے وہ سڑکےں ےا بازار ہوں ےا پھر لوگوں کے اپنے گھروں کی ۔ بدقسمتی سے ہمارے مےں اس چےز پر کوئی خاص توجہ نہےں دی جاتی۔ جس معاشرے مےں صفائی کا نظام خراب ہو اس معاشرے مےں مختلکف قسم کی بےمارےاں پےدا ہونے لگتی ہےں۔ ہمےں چاہئے کہ خود بھی صاف رہےں اور اپنے شہر کو بھی صاف رکھےں۔ اور اگر لوگ صفائی رکھنے مےں کوتا ہی کرےں گے تو ہمارے ملک کے موجودہ حالات سے توسب ہی واقف ہےں۔ 
آج پاکستان مےں زےادہ تر شہری صفائی کے نظام کو چلانے مےں نا کام ہےں اور اس سب سے اہم کردار ہم خود ادا کرتے ہےں۔ اپنے شہر "حےدرآباد" کو ہی دےکھ لےں۔ حےدرآباد شہر مےں صفائی کی کےا صورتحال ہے؟ جہاں کوئی خالی جگہ دےکھی اس جگہ کچرا پھےنکنا شروع کردےا۔ مےرے گھر کے نزدےک اےک خالی پلاٹ کردےا۔ مےرے گھر کے نزدےک اےک خالی پلاٹ تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں نے وہاں کچرا پھےنکنا شروع کردےا اور آہستہ آہستہ دوسرے لوگوں نے بھی وہاں کچرے کے ڈھےر لگا دئےے اور کچھ ہی عرصہ مےں وہاں کچرے کا پہاڑ بن گےا اور اس وجہ سے پورے محلے مےں بدبو پھےلنے لگی اور لوگوں نے وہاں سے گزرنا بھی بند کردےا۔ پھر جب اس جگہ گھر کی تعمےر شروع کی گئی تو کچڑا ہٹوانے کے لئے ہزاروں روپے کا خرچہ آےا اور ےہ سارا نقصان لوگوں کی کوتاہی اور سستی کی وجہ سے ہوا۔ 
اسی طرح اگر ہم اپنے شہر کے مختلف علاقوں پر نظر دوڑائےں تو آپ کو کئی اےسی جگہےں دکھائی دےں گی اگر آپ تلک چاڑی اترتے وقت اس کی بائےں جانب دےکھےں تو آپ کو کچرے کی نہر دکھائی دے گی اصل مےں وہ کوئی نہر نہےں، بلکہ وہ اےک سڑک ہے جو گاڑےوں کی آمد و رفت کے لئے بنائی گئی تھی مگر افسوس لوگوں نے اسے کچرے کا ڈھےر لگا کر بند کردےا ہے۔ اکثر وہاں سے گزرتے وقت کچرے کی بدبو کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مگر بات ابھی ختم نہےں ہوئی اگر ہم لطےف آباد نمبر 12چلے جائےں تو وہاں سڑک کے دونوں اطراف سےورےج نالے کے کچرے سے بھرے دکھائی دےتے ہےں اور اسی کے گردی سبزی اور پھل فروڈ ٹھےلے لگائے کھڑے ہوتے ہےں۔ اسی طرح قاسم آباد اور سٹی کے بھی بہت سے علاقے اےسے ہےں جہاں سالوں سے کچرے کے ڈھےرے لگے ہوتے ہےں جس کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والوں کو پرےشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
اگر بات کی جائے صفائی کا نظام دکھنے والے ادارے بلدےہ کی تو اس کا بھی صفائی کا نظام خراب کرنے پر آئے دن سےورےج کا پانی کھڑا رہتا ہے جس کو دےکھنا بلدےہ کا کام ہے مگر اس ادارے کے ملازمےن اپنے کام کو صحےح طرح سے انجام نہےں دےتے جس کی وجہ سے عوام کو مشکالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلدےہ ملازمےن کو تنخواہےں نہ ملنا بھی اس کام مےں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ ان ملازمےن کی تنخواہےں کےوں روکی جاتی ہےں اس بارے مےں کوئی معلومات حاصل نہےں ہوسکےں۔ 
بلدےہ اعلی کے حکام کے مطابق صفائی کے لئے بلدےہ کا بجٹ تقرےباً "42" کروڑ روپے ہے۔ بلدےہ مےں سےنٹری ورکرز کی کل تعداد "1194" ہے۔ اور سپر وائےزر اور دوسرے اسٹاف کی کل تعداد "170" ہے۔ 
ٹرےکٹر، ڈمپر اور دوسری گاڑےوں کی تعداد "29" ہے۔ شہر سے ےومےہ "700" ٹن کچرا اٹھاےا جانا چاہئے لےکن بلدےہ کے پاس کچرا اٹھانے کی گنجاﺅش "600" سے "650" ٹن ہے۔ کچرے کے لئے کوئی ڈمپنگ اےرےاز مختص نہےں کئے گئے۔ اور سےورےج کے پانی کو سےدھا سمندر مےں چھوڑا جاتا ہے۔ اب بلدےہ اعلی کو چاہئے کہ سےورےج کے پانی کے لئے مخصوص نہرےں بنائی جائےں تا کہ وہ سارا پانی دودسرے ممالک کی طرح ہم بھی زراعت کے استعمال مےں لے سکےں اور کچرے کے لئے کچھ ڈمپنگ اےرےاز بھ µ مختص کئے جائےں تا کہ اس سے بھی ہم بجلی بنانے اور دوسرے ضروری کاموں مےں استعمال کرسکےں۔ ہر علاقے مےں اےک بڑا ڈسٹ بن رکھ دےا جائے تا کہ پورے علاقے کا کچرا اےک ہی جگہ جمع کےا جاسکے اور شہرےوں کو بھی چاہئے کہ ادھر ادھر کچڑا پھےنکنے کے بجائے اےک مخصوص جگہ پر کچرا پھےنکا کرےں تا کہ ان کے ارد گرد کا ماحول صاف رہے اور ان کا شہر حےدرآباد بھی ۔
#Hyderabad, #Sanitation, 

Labels: , ,

حیدرآباد میں پلاسٹک کی اشیاءکو دوبارہ استعمال کرنے کا کاروبار

Same Composing mistakes  u used " ے" instead of  "ی" 
 This left all the piece un readable.
 This is report which needs sources to be quoted, some attribution and quotes from related people. More figures and facts


سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 2
حیدرآباد میں پلاسٹک کی اشیاءکو دوبارہ استعمال کرنے کا کاروبار 
پلاسٹک اےک اےسا مادہ ہے جس کو اگر اےک مخصوص درجہ حرارت پر پگھلا ےا جائے تو اس کو جس طرح کی شکل دےنا چاہےں اور اسی شکل مےں ڈھل جاتا ہے۔ پلاسٹ کو پگھلانے کےلئے اےک مخصوص درجہ حرارت ہوتا ہے جو کہ (150oC) ہے اور پرانے پلاسٹ کو پگھلا کر پوری دنےا مےں پلاسٹک کو ری سائےکل کرنے کے لئے شہری علاقوں سے دور کسی وےران علاقے مےں فےکتری لگانے کا انتخاب کےا جاتا ہے۔ اور خاص طور پر اس کی جانچ پڑتال کر کے اور اس مےں فالتو کچڑا نکال کر اسے (150oC) کے درجہ حرارت پہ پگھلاےا جاتا ہے اس طرح وہ پلاسٹک دوبارہ استعمال کے قابل ہوجاتا ہے۔ اور اسے کسے بھی شکل مےں تبدےل کےا جاسکتا ہے۔ (150oC) کے درجہ حرارت سے پلاسٹک مےں موجود تمام جراثےم مرجاتے ہےں چاہے وہ پلاسٹک اس سے پہلے کسی بھی چےز کے لئے استعمال ہوا ہو۔ اور ےہ سارا عمل حکومتی اداروں کے بنائے گئے قوانےن کے مطابقی ہوتا ہے۔ 
اگر ہم اپنے شہر حےدرآباد کی بات کرےں جس کا شمار پاکستان کے بڑے شہروں اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر مےں ہوتا ہے۔ ےہاں پر حکومت نے پلاسٹک کو ری سائےکل کرنے کے لئے جامشورو مےں کچھ مےدانی علاقوں کو منتخب کےا ہے ۔ لےکن وہاں تک پلاسٹک پہنچ ہی نہےں پاتا۔ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے وہاں فالتو کچرا اور گتے ہاردی وغےرہ لے جا کر جلادئے جاتے ہےں اور اصل پلاسٹک بےچ راستے سے ہی غائب کردےا جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ پلاسٹک جو انجکشن ، ڈرپ اور بچوں کی فےڈر وغےرہ مےں استعمال ہوتا ہے کےونکہ ان چےزوں مےں جو پلاسٹک استعمال ہوتا ہے وہ کچھ اچھی قسم کا پلاسٹک ہوتا ہے اور قےمت مےں بھی بہت مہنگا ہوتا ہے۔ ےہ سارا پلاسٹک ری سائےکل ہونے سے پہلے ہی غےر قانونی طرےقے سے غائب ہوجاتا ہے۔ل 
اگر ہم صرف سول ہسپتال کی ہی بات کرےں تو ےہاں سے جتنا بھی پلاسٹک جاہے وہ ڈرپ، انجکشن کا ہو وہ سب ظاہری طور پر جامشورو کی مخصوص جگہوں پر لے جا کر ری سائےکل کےا جاتا ہے مگر اصل کہانی کچھ اور ہے ہسپتال کا صفائی کا عملہ پلاسٹ کو جمع کرنے اور اسے منتقل کرنے مےں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صفائی کرنے والے سوئپر ڈرئپ اور سرنج وغےرہ کے پلاسٹک کو کچرے مےں پھےنکنے کے بجائے اےک جگہ جمع کرلےتے ہےں اس کے بعد مخصوص مقام پر منتقل کرتے ہےں۔ پہلے ےہ لوگ دوائےں بھی چراتے تھے لےکن اب ان لوگوں نے پلاسٹک سے کافی منافع ہوتا ہے۔ پہلے ان کو دوائےاں اس لئے بھی چرانی پڑتی تھےں۔ کےونکہ ےہ لوگ پہلے سےدھا کےا ڈپوں کو ےہ پلاسٹک نہےں بےچتے تھے۔ بلکہ اےک پورا ٹھےکا ہوا کرتا تھا جس کا ٹھےکےدار ان لوگوں سے کم پےسے مےں خرےد کر آگے زےادہ پےسوں مےں فروخت کرتا تھا اور اس ٹھےکے کی سرپررستی سول ہسپتال کے اعلی حکام کےا کرتے تھے کچھ عرصہ پہلے مےڈےا کے لوگوں نے چھاپا مار کر ان لوگوں کا سہارہ کچا چٹھا لوگوں کے سامنے کھول دےا تھا۔ لےکن ان لوگوں نے دوسرا راستہ اختےار کرتے ہوئے ےہ کام جاری رکھا۔ 

Labels: ,

جنریٹر کا رجحان بڑھتا ہوا بزنس

It should be atleast 600 words
Composing mistakes
Same Composing mistakes  u used " ے" instead of  "ی" 
 This left all the piece un readable.
 This is report which needs sources to be quoted, some attribution and quotes from related people. More figures and facts
سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 3
جنرےٹر کا رجحان اےک بڑا بزنس 
توانائی کسی بھی ملک کی معےشت کو فروغ دےنے اور لوگوں کو سہولےات فراہم کرنے کے لحاظ سے رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتی ہے اور خاص طور پر توانائی اگر بجلی کی شکل مےں ہو تو گزشتہ دس پندرہ سال سے پاکستان مےں بجلی کا بحران ہے جس کی وجہ سے ملکی معےشت بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ اس کا گہرا اثر ےہاں کی عوام پہ پڑا ہے۔ سن 2000 سے بجلی کی لوڈ سےڈنگ کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ ہمارے سسٹم کا حصہ بن گےا اور لوگوں کو اس کا عادی ہونا پڑا۔ بجلی کے متبادل ذرائعہ کے طور پر مکتلف مشےنری کا سہارا لےا گےا جن مےں جنرےٹر سر فہرست ہے ۔جنرےٹری بجلی کے متبادل کے طور پر بہت کامےابی سمجھا جانے لگا اور ملکی معےشت کو سہارا دےنے کے لئے اس کا استعمال ہر ادارے، فےکٹری ےا کاروباری حضرات کو کرنا پڑا۔ 
اگر حےدرآباد کی بات کی جائے تو ےہاں بھی جنرےٹر کا کاروبار بڑی تےزی سے ابھر کے سامنے آےا ہے سن 2000 سے ےہ کاروبار شروع ہوا اوعر جےسے جےسے لوڈ شےڈنگ مےں اضافہ ہوا اس مےں بھی تےزی سے اضافہ ہوا سن 2008 سے ےہ کاروبار عروج پکڑ گےا ۔ ڈےلر حضرات کا کہنا ہے ےہ اےک منافع بخش کاروبار ہے اور ہر پےس پر ان کو 4سے 5ہزار روپے کا منافع ہوتا ہے اسی طرح وہ مہےنہ مےں اوسطاً 30سے 40 جنرےٹر فروخت کرتے ہےں اور اس بھی سےزن کا بڑا اثر ہوتا ہے تقرےباً 40سے 50 کمپنےز کے جنرےٹر ہےں جس مےں معےاری اور غےر معےاری (چائنہ) بھی شامل ہےں شہر حےدرآباد مےں جنرےٹر فروخت کرنے کی تقرےباً 30سے 40دکانےں، ہےں اور اس کے مسطری (مکےنک) کی تعداد بے شمار ہے۔ 
جنرےتر مےں کئی قسم کے اور سائز کے جنرےٹر ہوتے ہےں جس مےں اسکول بےگ سے لے کر ہاتھی کے سائز جتنے جنرےٹری بھی ملتے ہےں۔ مکےنک حضرات کا کہنا ہے کہ لوگ ہمارے پاس ہر سائز کے جنرےٹر لے کر آتے ہےں اور مختلف قسم کی خرابےوں کا ذکر کرتے ہےں جن مےں وولٹےج کا کم زےادہ ہونا ہے۔ جنرےٹر کور پٹرول سے گےس پہ منتقل کرنا، اس کی سروس کرنا۔ 
مکےنک کا کاروبار بھی حےدرآباد مےں کافی زور پکڑ چکا ہے ہر گلی ہر سڑک پہ آپ کو مکےنک کی دکان نظر آئےگی۔ جب اس سے پوچحا گےا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار مےں ان کو اوسطاً منافع ہوتا ہے اور وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پےٹ پلاتے ہےں جس طرح سے موٹر سائےکل کی فروخت مےں اضافہ ہوا ہے وےسے ہی مکےنک کا کاروبار بھی فروغ پاتا جارہا ہے۔ حےدرآباد شہر مےں کھو کھر محلہ مکےنک کاروبار کا مرکز ہے جہاں پورے شہر سے لوگ اپنی گاڑےوں کی مرمت کروانے آتے ہےں اور اپنی گاڑےوں کو خوبصورت بنوانے کے لئے مکےنک حضرات سے مختلف مشورے بھی لےتے ہےں۔ 

Labels: ,

حیدرآباد میں شدید گر می میں لوگ کیا کرتے ہیں۔


سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 4
حےدرآباد مےن شدےد گر می مےں لوگ کےا کرتے ہےں۔ 
حےدرآباد پاکستان کا چھٹا بڑا اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے وےسے تو حےدرآباد اپنی ٹھنڈی ہواﺅں کی وجہ سے بہت مشہور ہے مگر گزشتہ چند سالوں مےں ےہاں گرمی مےں بے پناہ اضافہ ہوا ہے سندھ کے دوسرے شہروں کی طرح حےدرآباد مےں گرمی مےں ہر سال اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہےں او پر سے رہی سہی کثر لوڈ شےڈنگ نے پوری کردی ہے اےسے مےں لوگ حےدرآباد کے تفرےحی مقام المنظر کا رخ کرتے ہےں درےائے سندھ کے کنارے اےک خوبصورت تفرےحی مقام المنظر ہے جہاں اکثر جمعہ اور اتوار کے دن لوگوں کا رش دےکھے مےں آتا ہے شدےد گرمی کی وجہ سے لوگ اس مقام کا رخ کرتے ہےں اسکے علاوہ پھلےلی بھی اےسا ہی تفرےح مقام ہے لوگ ان مقامات کا رخ کرتے ہےں اور گرمی کی شدت کو کم کرنے کا ذرےعہ سمجحتے ہےں۔ مگر اس مقام کا سےاہ پہلو ےہ بھی ہے کہ ےہاں اکثر نوجوان ڈوب کر بھی مرجاتے ہےں۔ سال 2014 مےں پھلےلی کے مقام پر دو نوجوان ڈوب کر ہلاک ہونے جن کی عمرےں 23 اور 25 سال تھےں اسی طرح سال 2014 مےں درےائے سندھ مےں لطف آباد نمبر 10 کے مقام پر اےک نوجوان ڈوب کر ہلاک ہوا۔ سال 2015 مےں بھی پھلےلی نہر مےں 2نوجوان ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نہانے پر پابندی لگاتی ہے جو کچھ عرصے بعد اغٹھائی جاتی ہے۔ گرمےوں مےں شہر حےدرآباد مےں مختلف قسم کے مشروبات کا استعمال بھی لوگ خوب کرتے ہےں جن مےں گنے کا رس بہت لطف دےتا ہے اس کے علاوہ املی آلو بخارے کا شربت، تربوز کا شربت، بادام کا شربت، لےموں پانی، تھادل جو کہ مختلف قسم کے مےوہ جات سے ملا کر بنا ےا جاتا ہے اور لہسی جس کا کوئی مشروب مقابلہ نہےں کرسکتا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ےہ مشروبات پی کر وہ گرمی کی شدت کو کم کرنے اور ذہنی تھاکوٹ کو دور کرنے کے لئے پتے ہےں۔ سال 2016 کو گرم ترےن سال قرار دےا گےا ہے اور حالےہ دنوں حےدرآباد مےں سورج آگ بر سارہا ہے اور ہےٹ اسٹروک کی بھی نشانےاں ظاہر ہورہی ہےں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لوگ صبح 10بجے سے شام 4بجے تک غےر ضروری گھر سے نہ نککلےں اور اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھےں۔ گرمی کی حالےہ ہر کے باعث لطےف آباد نمبر 8 کی تاجر برادری نے کاروبار کو رمضان نے اوقات مےں دن کے ٹائم بند رکھنے اور افطاری کے بعد سے سحری تک جاری رکھنے کی تجوےز دی ہے جس کی اصل وجہ گرمی کی حالےہ لہر ہے اور لوگ اس قےامت خےز گرمی مےں بازاروں کا رخ کرنے سے بھی گےز کررہے ہےں۔ حےدرآباد کے شہری شدےد گرمی مےں شامل کے اوقات مےں بازاروں اور تفرےحی مقامات کا رخ کرتے ہےں اور لرزہ خےز گرمی کی وجہ سے اپین ساری تھکان اتارتے ہےں۔ شدےد گرمی مےں حےدرآباد کے شہرےوں کے ےہی مشاغل ہےں۔ 

Labels: ,

Monday, December 7, 2015

Rise and fall of Manganhars


Shahnawaz Khaskheli
2k14/MMC/48 ( Final year)
Improver ( 1st year 2nd semester )
 منڱڻهارن جو عروج ۽ زوال 
تحقيقاتي رپورٽ

( تحقيقاتي رپورٽ )
 سنڌي ثقافت جي سفيرن منڱڻهارن فقيرن جي فن کي جدت ڳڙڪائي وئي، روڊن تي ويهي ماڻهن کي متوجه ڪرڻ لڳا، ڪيترن ئي دهل، شهنائي ڇڏي ڏنا، ڪيترائي روڊن تي اچي ويا،  جدت جي وڌندڙ  اثرن سنڌ جي هن شاندار ثقافتي جزکي ڪاپاري ڌڪ هنيو، سرڪاري سرپرستي توڙي ماڻهن جو ثقافت کان پري ٿيڻ به زوال جو سبب بڻيل، ماضي ۾ سنڌ جي ننڍي وڏي شادي منڱڻهار فقيرن کانسواءِ اڌوري سمجهي ويندي هئي، ايڪو سائونڊ ۽ شادي هالن جي تيزي سان تعمير کانپوءِ ماڻهو منڱڻهارن فقيرن کي وسارڻ لڳا، اولاد ڄمڻ کان وٺي شادي تائين هر ننڍي وڏي خوشي ۾ منڱڻهار فقير ساز ڇيڙي ماڻهن کي رقص ڪرڻ تي مجبور ڪري ڇڏيندا هئا، دهل ۽ شهنائي جي جڳهه ايڪو سائونڊ ۽ غيرمعياري گانن سنڀالي ورتي،  اڄ به سنڌ جي ٻهراڙين وارن علائقن ۾ منڱڻهار فقيرن جو مان ۽ مرتبو برقرارآهي،

  تفصيل موجب سنڌ جي ثقافت جو اهم جز سمجهيا ويندڙ منڱڻهارن فقيرن جي فن کي جدت ڳڙڪائي وئي، ڪيترا ئي شهنائي ۽ دهل وڄائڻ ڇڏي ٻين ڌنڌن ۾ جنبي ويا،  ماضي ۾ سنڌ جي هر ڳوٺ توڙي شهر جي ننڍي وڏي شادي منڱڻهار فقيرن کان سواءِ اڌوري سمجهي ويندي هئي پر موجوده دور ۾ ايڪو سائونڊ ۽ شادي هالن جي تيزي سان تعمير سبب ماڻهو منڱڻهار فقيرن کي وسارڻ لڳا آهن، سنڌ جي ثقافت جو هي اهم جز  پنهنجي فن جي مڃتا نه ملڻ زوال پذيري جو شڪار ٿي ويو آهي، جڏهن ته ڪيترائي  منڱڻهار فقير پنهنجي اباڻي ڏنل ورثي کي ڇڏي ٻين ڌنڌن ۾ جنبي ويا آهن، سرڪاري سرپرستي نه هئڻ ۽ ماڻهن ۾ ثقافت بابت شعور گهٽ هئڻ سبب سنڌي ثقافتي جو هي جز سنڌ جي تقريبن شهرن مان ختم ٿي چڪو آهي،

ڪيترائي منڱڻهار فقير اڄ به پنهنجي فن ۾ ماهر سڃاتا ويندا آهن پر سرپرستي نه هئڻ ڪري اهي روڊن تي شهنائيون وڄائي ماڻهن کي متوجه ڪرڻ تي مجبور آهن،  ماضي ۾ سنڌ  جا ماڻهو اولاد ڄمڻ کان وٺي شادي تائين هر ننڍي وڏي خوشي ۾ منڱڻهار فقيرن کي لازمي گهرايو ويندو هو ۽ ان کانسواءِ تقريب نامڪمل سمجهي ويندي هئي، انهيءِ ۾ منڱڻهار فقير شهنائي تي ڌنون ۽ دهلن تي تالن سان اهڙو ساز ڇيڙيندا هئا جو ٻارن کان وٺي پوڙهن تائين سڀ رقص ڪرڻ تي مجبور ٿي ويندا هئا،  موجوده دور ۾ سنڌ ۾ ٿيندڙ شادين ۾ منڱڻهار فقيرن جي جڳهه ايڪو سائونڊن ۽  غيرمعياري گانن سنڀالي ورتي آهي، جڏهن ته اليڪشن وارن ڏينهن ۾  به سياسي پارٽين جي ريلين ۾ منڱڻهار فقيرن کي گهرايو ويندو هو پر موجوده وقت  سياسي پارٽين جي جلسن، جلوسن ۽ ريلين ۾ ايڪو سائونڊ ۽ ڀنگڙا ڊانس جڳهه سنڀالي ورتي آهي، سنڌ جو ثقافت جو هي اهم جز ماڻهن ۾ ثقافتي  شعور نه هجڻ سبب پڻ زوال پذير ٿي رهيو آهي،

اڄ به سنڌ جي ٻهراڙين وارن علائقن ۾ منڱڻهار فقيرن جو مان مرتبو برقرار آهي، منڱهار فقير پنهنجي فن جي زوال پذيري سبب هاڻ ٻين ڌنڌن کي ترجيح ڏين ٿا، سنڌ جي ثقافت جي هن شاندرن ٿنڀ جي زوال پذير ٿيڻ سان سنڌ پنهنجي شاندار ثقافتي پاسي کان نه صرف محروم ٿي ويندي پر اڌوري پڻ بڻجي ويندي
              
 دهلن ۽ شهنائين جا مخلتف قسم،  گزي محرم ۾، متو شادين ۽ عام پروگرامن ۾ ۽ بنارسي ڪو ڪو وڄائي، وچولي جو وجود ئي ختم،  ڊڍ محرم  ۾ ۽ خوشي ۾ ليوا، جهومر ۽ ٽلو جا تال وڄايا وڄن ٿا.  
 منڱڻهار فقيرن وٽ دهلن ۽ شهنائين جا مخلتف قسم آهن ۽ انهن مان مخلتف قسمن جا ساز ۽ تال مخلتف موقعن تي وڄايا ويندا آهن، گزي شهنائي محرم جي چاليهي تائي، متو شهنائي شادي مرادي ۽ خوشين جي ٻين موقعن تي ۽ بنارسي شهنائي ڪير ڪير وڄائيندو آهي، جڏهن ته ڪجهه وقت وچولي شهنائي پڻ آئي پر جلد وجود وڃائي ويٺي، ان کان علاوه دهلن جا مخلتف قسم آهن ۽ تال آهن، ڊڍ محرم ۾ ۽ خوشي ۾ ليوا، جهومر ۽ ٽلو جا تال وڄايا وڃن ٿا. جڏهن ته وچولي شهنائي ۽ گزي ۾ ڪو خاص فرق ناهي،  

 محرم ۾ وڄائي ويندڙ گزي شهنائي سنڌ ۾ صرف حيدرآباد ۽ ڪوٽڙي ۾ موجود  
       محرم ۾ وڄائي ويندڙ گزي شهنائي هن وقت سنڌ ۾ صرف حيدرآباد  ڪوٽڙي ۾ موجود، باقي شهرن ان وجود ناهي رهيو.                                                                                                                                                                                                                           
 شهنائي جا مخلتف قسم مخصوص علائقن جا ڪاريگر ٺاهيندڙ، بنارسي شهنائي ڀارت جي شهر بنارس، متو سيالڪوٽ ۽ ملتان، جڏهن ته گزي سنڌ ۾ ٺهي ٿي.
 شهنائي جا مخلتف قسم مخلتف شهرن ۾ ٺهن ٿا ۽ ان کانسواءِ ڪٿي نٿا ٺهن، محرم ۾ وڄائي ويندڙ گزي سنڌ ۾، متو سيالڪوٽ ۽ ملتان ۾، جڏهن ته بنارسي شهنائي ڀارت جي شهر بنارس ۾ ٺهي ٿي.
                                                                                                                                            
 بنارسي شهنائي ۾  گهٽ آواز، متي ۾ ٿورو وڌيڪ ۽ گزي ۾ سنهو ٿئي ٿو.  
    بنارسي شهنائي ۾ گهٽ آواز، سنڌ ۾ وڄائي ويندڙ متي ۾ ٿورو وڌيڪ آواز  ۽  محرم  وڄائي ويندڙ گزي جو سنهو آواز ٿئي ٿو.
روڊن تي دهل ۽ شهنائي رکي ويٺلن کي منڱڻهار تسليم نٿا ڪيون، اهي نقل آهن، ماڻهن کي گوڙ کپي جيڪا روڊن تي  ويٺل انهن کي مهيا ڪري ڏين ٿا، حيدرآباد جا منڱڻهار فقير 
  حيدرآباد جي منڱڻهار فقيرن علي ، اويس، خان محمد ، استاد گلو، سوڍي رحيم بخش، علي مراد ۽ ٻين چيو ته روڊن تي دهل ۽ شهنائي کڻي ويٺلن کي منڱڻهار تسليم نٿا ڪيون اهي نقل آهن، اڄ ڪلهه نقل تمام گهڻو ٿي ويو آهي، ماڻهن کي پڻ گوڙ ۽ شور کپي جيڪو  روڊ تي ويٺل انهن کي مهيا ڪري ڏين ٿا. روڊن ويهڻ اسان جي اصولن خلاف آهي.
 ڪوٽڙي جو استاد عبدالله منڱڻهار پوري پاڪستان ۾ واحد بنارسي شهنائي وڄائيندڙ، عابده پروين کان وٺي ڪيترن ئي ناليوارن فنڪارن سان ڳائي چڪو، شاهه لطيف ايوارڊ، شهباز ايوارڊ کان وٺي ڪيترائي ايوارڊ ماڻ چڪو. 
ڪوٽڙي جو استاد عبدالله منڱڻهار پوري پاڪستان ۾ واحد بنارسي شهنائي وڄائيندڙ آهي، ان کان پهريان استاد رنگي خان لاهور وارو بنارسي شهنائي وڄائيندو هو، استاد عبدالله عابده پروين، استاد فتح علي خان، حميره چنا، جلال چانڊيو سميت ڪيترن ئي ناليوارن فنڪارن سان شهنائي وڄائي چڪو، ان کان علاوه استاد عبدالله شاهه لطيف ايوارڊ، شهباز ايوارڊ سميت ڪيترائي ايوارڊ ماڻيا، استاد عبدالله ڪوڪ اسٽوڊيو ۾ پڻ پرفارم ڪري چڪو  
                                                                                                                             

حيدرآباد جي روڊن تي ويٺل دهل شهنائي وارن پڻ منڱڻهارن فقيرن جي فن کي نقصان پهچايو، روڊن تي ويٺل اڪثر  پنجاب سان تعلق رکندڙ،
 حيدرآباد جي مختلف روڊن، آٽو ڀان روڊ، لطيف آباد روڊ، ٿڌي سڙڪ روڊ، حسين آباد روڊ ۽ گدو چوڪ سميت مخلتف علائقن ۾ روڊن ڀرسان ويٺل دهل ۽ شهنائي وارن پڻ منڱڻهارن فقيرن جي فن کي نقصان پهچايو آهي، انهن روڊن تي ويٺلن مان اڪثر جو تعلق پنجاب سان آهي ۽ تمام گهٽ پئسن ۾ تقريب ۾ شرڪت ڪندا آهن،  انهن وٽ موجود دهل ۽ شهنائيون پڻ سنڌ جي منڱڻهارن فقيرن کان مختلف آهن ۽ اڪثر هو دهل پنجابي طرز جي ڀنگڙي وانگر وڄائين ٿا  
 ماضي ۾ اولاد جي ڄمڻ کان وٺي عقيقي تائين ۽ شادي جا ڏينهن ٻڌڻ کان شادي تائين منڱڻهارن فقيرن کي بوڪ ڪرايو ويندو هو، ڪنواريتن ڏانهن ويندڙ ڄڃ منڱڻهارن فقيرن کانسواءِ نامڪمل هوندي هئي 
ماضي ۾ سنڌ ۾ اولاد جي ڄمڻ کان وٺي عقيقي تائين ۽ شادي جا ڏينهن ٻڌڻ کان نڪاح تائين منڱڻهارن فقيرن جي ٽولي کي بوڪ ڪرايو ويندو هو ، ان کانسواءَ ڪنواريتن ڏانهن ويندڙ ڄڃ منڱڻهار فقيرن کانسواءِ اڌوري سمجهي ويندي هئي، جڏهن ته نڪاح جي واري ڏينهن فجر مهل گهوٽ کي منڱڻهارن فقيرن جي پروٽوڪول سان شامياني ۾ آندو ويندو هو، جنهن کي ڀسرين جي رسم پڻ چئجي ٿو.
 تعليم يافته ۽ نوڪرين سان وابسته هئڻ باوجود ڪيترن ئي منڱڻهار فقيرن پنهنجي فن کي نه ڇڏيو، اولاد کي تعليم ڏيارڻ سان گڏ فن جي تربيت به ڏيندا آهن،
                                                                                   حيدرآباد جا ڪيترائي تعليم يافته ۽ نوڪرين سان وابسته منڱڻهار فقيرن پنهنجي فن کي نه ڇڏيو، اولاد کي تعليم سان گڏ فن جي تربيت پڻ ڏيڻ لڳا، حيدرآباد جا منڱڻهار فقير پرائمري استاد ظهير منڱڻهار، ڪلارڪ حبيب منڱڻهار ۽ ٻين چيو ته هن دور ۾ تعليم کانسواءِ جياپو ناهي، اسان پنهنجي ڪميونٽي کي تعليم ڏانهن  ڏيان ڏيڻ لاءِ چوندا آهيون ۽ پنهنجي اولاد جي تعليم ڏا نهن خاص ڌيان ڏيندا آهيون ۽ ان کان علاوه پنهنجي اولاد  کي فن جي پڻ تربيت ڏيندا آهيون ، اڄ ڪلهه جي دور ۾ فن تي گذارڻ مشڪل آهي ان لاءِ فن صرف اسان ورثي طور سنڀالي رکون پيا. 


Shahnawaz Khaskheli

Labels: ,

Sanghar rich in resources poor in infrastructure


Shahnawaz Khaskheli
2k14/MMC/48 ( Final year)
Improver ( 1st year 2nd semester )
قدرتي وسيلن سان مالا مال کنڊر بڻيل سانگهڙ ضلعو

تحقيقاتي رپورٽ

قدرتي وسيلن سان مالا مال سانگهڙ ضلعو کنڊر بڻجي ويو، ضلعو موئن جي دڙي جو ڏيک ڏيڻ لڳو،  20 سيڪڙو کان مٿي گئس مهيا ڪندڙ ۽ تيل جي ذخيرن سان مالامال ضلعي جا 75 سيڪڙو ماڻهو انتهائي غربت واري زندگي گذارڻ لڳا، تيل ڳوليندڙ 50 کان مٿي ملڪي ۽ غير ملڪي ڪمپنين ۾ اڪثر ڌاريا ڀرتي ٿيل، مقامي ماڻهن کي صرف ليبر طور ڀرتي ڪيو وڃي ٿو، ضلعي جي نوجوانن جا ڏنل ڪاغذ ڊسٽ بين حوالي، ضلعي ڏانهن ايندڙ ويندڙ هر روڊ ٽٽل، ڊسٽرڪٽ هيڊڪوارٽر اسپتال دل جي وارڊ، گڙدن جي وارڊ ۽ ٻين وارڊن کان وانجهيل، مقامي سياسي اڳواڻن جي ماهانه منٿلي مقرر ٿيل، ضلعي جي چونڊيل نمائنده جون ڪيتريون ئي جعلي ڀرتيون ٿيل. سپريم ڪورٽ ۾ ڪيس هلندڙ  

                                                                                                             سنڌ ۾ تيل ۽ گئس جي ذخيرن سان مالامال سنڌ جي امير ضلعي سانگهڙ جا  75 سيڪڙو  ماڻهو انتهائي غربت جي زندگي گزاري رهيا آهن، ضلعي ۾ ترقياتي ڪم نه ٿيڻ ڪري ضلعو موئن جو دڙو جو ڏيک ڏيڻ لڳو آهي، ضلعي ڏانهن ايندڙ ويندڙ هر روڊ ميرپورخاص_سانگهڙ روڊ، نوابشاهه _سانگهڙ روڊ، شهدادپور_سانگهڙ روڊ، ۽ ٽنڊآدم_ سانگهڙ روڊ سميت جو ضلعي جا سڀئي ننڍا وڏا 
روڊ توڙي لنڪ روڊ تباهه بڻجي ويا آهن جنهن سبب حادثا معمول بڻجي ويا آهن ، 

هڪ رپورٽ موجب سانگهڙ ضلعي اندر گذريل ٽن سالن ۾  ٻه سئو کان وڌيڪ ماڻهو روڊ حادثن جو شڪار ٿيا جن مان 50  کان مٿي فوري طبي سهولتون نه ملڻ ڪري فوت ٿي ويا، ضلعي جي 75 سيڪڙو کان مٿي آبادي انتهائي غربت واري زندگي گذاري رهي آهي، جڏهن ته  ضلعي اندر تيل ۽ گئس جا ذخيرا ڳوليندڙ 50 کان مٿي ملڪي توڙي غير ملڪي ڪمپنين ۾ وڏي تعداد ۾ ڌاريا ڀرتي ڪري مقامي ماڻهن کي نظرانداز ڪيو ويو آهي. 

 مقامي ماڻهن کي صرف ليبر طور ڀرتي ڪيو وڃي ٿو، ضلعي جي ٻن مک گئس پلانٽن ٻوٻي آئل اينڊ گئس پلانٽ ۽ رواتياڻي آئل اينڊ گئس پلانٽ ۾ پيش امام به ٻين صوبن جا ڀرتي ٿيل آهن،  جڏهن مقامي نوجوان طرفان ڏنل ڪاغذن کي ڊسٽ بن ۾ اڇلايو ويندو آهي، ان کان علاوه انهن ڪمپنيون ضلعي ۾ ترقياتي ڪم به نٿيون ڪرائين، ضلعي جي ڊسٽرڪٽ هيڊڪوارٽر اسپتال  ۾ دل ۽ گڙدن جو وارڊ ناهي جنهن سبب ايمرجنسي ۾ ايندڙ مريض ٻين اسپتالن ڏانهن ريفر  ٿيڻ کان پهريان ئي فوت ٿي وڃن ٿا، جڏهن ته ڪمپنين معاهدي تحت ضلعي اندر نه ڪو ترقياتي ڪم ڪرايو آهي نه ئي تعليم ۽ صحت  جي بهتري لاءِ ڪي ڪوششون ورتيون آهن،

 ضلعي جي چونڊيل نمائنده، مقامي وڏيرن ۽ ڪمپنين جي ڳٺ جوڙ سبب ضلعي جي حالت ڏينهون ڏينهن تباهه ٿيندي پئي وڃي، ضلعي جي چونڊيل نمائنده جون انهن ڪمپنين ۾ ڪيتريون ئي جعلي ڀرتيون ٿيل آهن جن جي ماهانه رقم باقائدگي سان انهن جي اڪائونٽ ۾ منتقل ٿيندي رهي ٿي، جڏهن ته مقامي وڏيرن جون پڻ منٿليون مقرر ٿيل آهن جيڪي ڪمپنيون انهن کي ادا ڪنديون آهن، ٻئي طرف سانگهڙ بار جي عهديدران پاران ڪمپنين خلاف سپريم ڪورٽ ۾ پٽيشن جي داخل ڪئي وئي هئي جن  جي لاڳيتو ٻڌڻين بعد سپريم ڪورٽ اهو فيصلو ڏنو هو ته ڪمپنيون معاهدي موجب ضلعي ۾ ڪم ڪري رپورٽ پيش ڪن، سانگهڙ ضلعي جي اهڙي ابتر صورتحال تي سپريم ڪورٽ انتهائي سخت ريمارڪس ڏنا هئا 
   اي پي ڪمپنيون ڪيتري ئي عرصي تائين پيٽروليم ڪنسيشن ايگريمنٽ جي ڀڃڪڙي ڪنديون رهيون، معاهدي تحت کين ضلعي اندر مقامي ماڻهن کي روزگار ڏيڻ، ماحولياتي آلودگي روڪڻ سميت طئي شده رقم اسپتالن، اسڪولن ۽ روڊن رستن جي مرمت تي خرچ ڪرڻي هئي،     

 تيل ڳوليندڙ ڪمپنيون جن کي اي پي چئجي ٿو اهي ڪيتري ئي عرصي تائين پيٽروليم ڪنسيشن ايگريمنٽ جي ڀڇڪڙي ڪنديون رهيون،  تيل ڳوليندڙ  ۽ تيل پيدا ڪرڻ واري ڪمپنين کي حڪومت سان  طئي ٿيل معاهدي ( پي سي اي ) تحت ڪمپنين کي تيل ۽ گئس وارن علائقن ۾ مقامي ماڻهن کي روزگار ڏيڻ، ماحولياتي آلودگي روڪڻ ، گئس جون سهولتون مهيا ڪرڻ سميت طئي شده رقم اسڪولن ۽ اسپتالن جي بهتري سميت روڊن ۽ رستن جي تعمير تي خرچ ڪرڻي هئي پر ڪمپنيون ڪيتري ئي عرصي تائين انهي معاهدي ڪمپنين جي ڀڇڪڙي ڪنديون رهيون 

 چيف جسٽس جي ٽنڊوآدم بار ڪائونسل آمد وقت بار جي صدر عبدالحڪيم کوسو خطاب ۾ ڪمپنين جي ڏاڍ کان چيف جسٽس کي آگاهه ڪيو، جنهن خطاب جي نقل ڪاپي چيف جسٽس سپريم ڪورٽ جي انساني حقن واري شعبي کي موڪلي ۽ پوءِ  ٻڌڻيون شروع ٿيون،

سپريم ڪورٽ ۾ سانگهڙ جي بدحالي ۽ ڪمپنين پاران معاهدي تي عمل ڪرڻ واري ڪيس جي شروعات 10 آڪٽوبر 2013 کان ٿي، ٽنڊوآدم بار ڪائونسل جي حلف برادري تقريب ۾ چيف جسٽس پڻ آيو هو، حلف برداري تقريب کي خطاب ڪندي بار ڪائونسل جي صدر عبدالحڪيم کوسو ضلعي جي حالت ۽ ڪمپنين پاران ٿيندڙ زيادتين کان چيف جسٽس کي آگاهه ڪيو، جنهن بعد چيف جسٽس ان خطاب جي ڪاپي وڌيڪ ڪارروائي لاءِ سپريم ڪورٽ جي انساني حقن واري شعبي کي موڪلي جنهن تحت ڪيس نمبر 13371 داخل ٿيو ۽ ڪمپنين کان وضاحتون طلب ڪيون ويون ، جنهن تي او جي ڊي سي ايل ۽ ٻين ڪمپنين وضاحتون ڏنيون پر اهي تسلي جوڳيون قرار نه ڏنيون ويون، جنهن بعد ڪيس جي وڌيڪ ڪارروائي آرٽيڪل (3) 184 تحت ڪرڻ جي هدايت ڪئي وئي، جنهن کانپوءِ ڪيس جي باقائده ٻڌڻيون شروع ڪيون ويون، ڪجهه ٻڌڻيون اسلام آباد ۾ ، 19 سيپٽمبر 2013 ۾ ڪراچي سپريم ڪورٽ ۾ ۽ آخري ٻڌڻي 28 آڪٽوبر 2013 تي ڪراچي ۾ جسٽس جواد ايس خواجه، جسٽس خلجي عارف حسين ۽ جسٽس گلزار  تي ٻل ٽي رڪني بئنچ ڪئي ۽ فيصلو محفوظ ڪيو، فيصلو جسٽس جواد ايس خواجه لکيو   

 آئين جي آرٽيڪل 19 اي تحت بنيادي ڄاڻ تائين رسائي، اي پي ڪمپنين پاران فلاحي فنڊ جي گڏڻ ڪر ڻ، نگراني ۽ انهن جو مفيد استعمال يقيني بڻايو وڃي، هر ڇهن  مهينن بعد کليل ڪچهريون منعقد ڪيون وڃن. سپريم ڪورٽ جو فيصلو 
                                                                                             
 سپريم ڪورٽ سانگهڙ گئس اينڊ آئل ڪمپنين جي ڪيس جو فيصلو ڏيندي چيو هو  ته آئين جي آرٽيڪل 19 اي تحت معلومات تائين پهچ جي بنيادي حق جي طريقڪار مطابق اي اينڊ پي ڪمپنينز ذريعي گڏ ٿيندڙ فلاحي ۽ سماجي فنڊن جي نگراني ۽ انهن جي مفيد استعمال کي يقيني بڻايو وڃي، مقامي ضلعي حڪومت کي انهن ۾ ضرور شروع شامل ڪيو وڃي، خصوصي طور هر ڇهن مهينن ۾ کليل ڪچهريون ڪرايون وڃن ۽ عوام کي ان ۾ شامل ٿيڻ لاءِ اخبارن ۾ اشتهارن ذريعي دعوت ڏني وڃي، ڊائريڪٽر پي اي کي هدايت ڏني وئي ته حاصل ٿيندڙ رقمن جي جامع رپورٽ ٺاهي وڃي،
 ضلعي جي ترقي لاءِ جوڙيل پروڊڪشن ڪاميٽي به سياسي اختلافن جي ور چڙهيل، هر چونڊيل نمائنده ڪمپنين پاران ڏنل ترقياتي فنڊ پنهنجي علائقي ۾ استعمال ڪرڻ جي ڪوشش ۾ رڌل 
      سپريم ڪورٽ جي فيصلي بعد ڪمپنين جي ڏنل فنڊن تي ترقياتي ڪم ڪرڻ ڪرائڻ لاءِ ڊسٽرڪٽ پروڊڪشن ڪاميٽي ٺاهي وئي، جنهن جو ڪنوينر ڊپٽي ڪمشنر ۽ چيئرمين پ پ پ ايم پي اي فراز ڏيرو کي ٺاهيو ويو، ڪاميٽي ۾  فنڪشنل ليگ  ۽ پيپلزپارٽي جا ٽي ٽي ايم،پي،ايز رکيا ويا، پر اها ڪاميٽي به سياسي اختلافن جي ور چڙهي وئي ۽ هر چونڊيل نمائنده ترقياتي فنڊ پنهنجن علائقن ۾ استعمال ڪرڻ جو خواهشمند آهي جنهن ڪري فنڊن جي صحيح استعمال تي پڻ خدشا موجود آهن.                                             
  ويهه لک آبادي واري ضلعي جي اسي سڪيڙو آبادي صاف پاڻي کان محروم، 68 يوسيز مان صرف 20 يوسيز ۾ فلٽر پلانٽ لڳل، اڌ کان وڌيڪ فلٽر پلانٽ ناڪاره بڻيل، 
  ويهه لک کان مٿي آبادي واري ضلعي سانگهڙ  جي اسي سيڪڙو آبادي صاف پاڻي کان محروم، اسي سيڪڙو آبادي واٽر سپلاءِ جو گندو پاڻي پيئڻ تي مجبور، واٽر سپلاءِ به ويهه کان پنجهويه سال پراڻا، جڏهن ته ضلعي جي 68 يوسيز مان صرف 20 يوسيز ۾ فلٽر پلانٽ لڳل آهن جن مان اڌ کان وڌيڪ ناڪاره بڻيل آهن  

 ضلعي جا چار سئو کان مٿي پرائمري اسڪول بند، 11 هائير سڪينڊري اسڪولن مان 8  جي ايس،اين ،اي منظور نه ٿي، عمارتون موجود،اسٽاف اڻلڀ، ويهه لک آبادي لاءِ چار تعلقي اسپتال ۽ ڇهه رورل هيلٿ سينٽر موجود، اڪثر اسپتالن م ايڪسري جي سهولت ناهي. 
  سانگهڙ ضلعي ۾ چا سئو کان مٿي پرائمري ۽ مڊل اسڪول بند ٿيل آهن، جن مان ڪجهه وڏيرن جون اوطاقون ۽ مال جا واڙا بڻيل آهن، 11 هائير سيڪنڊري گرلز اينڊ بوائز اسڪولن مان 8 اسڪولن جي ايس  اين اي سالن کان منظور نه ٿي، ڪروڙن جي لاڳت سان ٺهيل عمارتون اسٽاف نه هئڻ ڪري زبون حال بڻجي ويون، جڏهن ته  هائير سڪينڊري جا استاد مقرر نه ٿيڻ ڪري ضلعي جي ڏهه هزارن کان مٿي شاگردن جي تعليم  ڪيترن ئي سالن کان داءِ تي لڳل آهي، مٿئين ڪلاس جا ٻار پرائيويٽ ٽيوشن سينٽرن تي داخلا وٺي اڳتي نڪري وڃن ٿا جڏهن ستر سيڪڙو کان مٿي غريب شاگرد انٽر بعد گهر ويهي رهن ٿا

 ضلعي جي ويهه لک آبادي کي صحت جون سهولتون ڏيڻ لاءِ صرف چار تعلقي اسپتالون ۽ ڇهه رورل هيلٿ سينٽر موجود، ضلعي جيون ڪيتريون ئي ڊسپنسريون بند، اڪثر اسپتالن ۾ ته ايڪسري جي سهولت به ناهي، بجيٽ جي کوٽ ڄاڻائي مريضن کي دوائون ٻاهران وٺن جي هدايت ڪئي وڃي ٿي، ضلعي جي مک اسپتال ڊسٽرڪٽ هيڊڪوارٽر اسپتال سانگهڙ  ۾ ماڻهن وڃڻ کان لنوائيندا آهن، هن مک اسپتال ۾ دل جي مريض کي فوري طور هڻڻ واري انجيڪشن به موجود ناهي 
 جتي تيل ۽ گئس جا ذخيرا ظاهر ٿيا اتي جي آبادي غربت کان هيٺ واري لڪير ۾ زندگي گهاريندڙ  
                                                                                                                  سانگهڙ ضلعي جي جن علائقن ۾ وڌيڪ تيل ۽ گئس جا ذخيرا مليا اتي جي آبادي غربت کان هيٺ زندگي گهاريندڙ آهي، رپورٽ موجب تيل ۽ گئس جي ذخيرن وارن علائقن  ۾ سڀ کان وڌيڪ غربت  هيٺ  تعلقن ۾ پهرئين نمبر تي تعلقو سنجهورو، ٻئين نمبر تي سانگهڙ، ٽئين نمبر تي شهدادپور ۽ ٽنڊوآدم آهن 

 ضلعي جي سول سوسائٽي جا حال به هيڻا 

   سانگهڙ ضلعي جي سول سوسائٽي جا حال به هيڻا آهن، اها ضلعي جي ترقي، مقامي ماڻهن کي ڪمپنين ۾ روزگار ڏيڻ توڙي شعوري سجاڳي لاءِ موثر ڪردار ادا نه ڪري سگهي، غربت ۽ تعليم جي گهٽتائي سبب ڪا به موثر تحريڪ ضلعي اندر پنهنجا پير نه کوڙي سگهي آهي، سپريم ڪورٽ به سانگهڙ ضلعي جي ڪيس دوران ريمارڪس ڏنا هئا ته اسان ته حڪم ڏيون ٿا پر سول سوسائٽي کي به اڳتي اچڻ گهرجي ، ڪجهه عرصو پهريان شهرين، سياسي اڳواڻن ۽ ساڃاهه وندن تي مشتمل سول سوسائٽي تحريڪ هلائي هئي ان هڙتالون ۽ احتجاج به ڪيا هئا پر اها تحريڪ موثر ثابت نه سگهي، ان جو وڏو سبب ضلعي اندر  پيري مرشدي واري سياست آهي 
             
 ضلعو سانگهڙ ٽن قومي ۽ ڇهن صوبائي تڪن تي مشتمل آهي، گذريل ويهن سالن کان ڪنهن به چونڊيل نمائندي گئس اينڊ آئل ڪمپنين خلاف اسيمبلي جي فلور تي ڪو به آواز ناهي اٿاريو، ضلعي جو سينيٽر به خاموش  بڻيل 
                                 
   مشرف جي دور حڪومت ۾ هن ضلعي تي فنڪشنل ليگ جي حڪمراني هئي پر انهن به گئس اينڊ آئل ڪمپنين خلاف ڪو به آواز نه اٿاريو جنهن سبب انهن جو گئس اينڊ آئل ڪمپنينز جو ڳٺ جوڙ هو،  ضلعي سانگهڙ ۾ ٽي قومي ۽ ڇهه صوبائي تڪ آهن، موجوده وقت ۾ ضلعي مان هڪ سينيٽر، ٻن قومي ۽ ٽن صوبائي تڪن تي پيپلزپارٽي جا چونڊيل نمائنده آهن جڏهن ته هڪ قومي ۽ ٽن صوبائي تڪن تي فنڪشنل ليگ جا چونڊيل نمائنده آهن پر انهن مان ڪنهن پنهنجي ضلعي جي تباهي ۽ گئس اينڊ آئل ڪمپنينز خلاف اسيمبيلين ۾ آواز ناهي اٿاريو،  اها ڳالهه ضلعي م هر ماڻهو جي زبان تي آهي فنڪشنل ليگ توڙي پ پ  جي چونڊيل نمائنده ۽ پارٽي اڳواڻن جو انهن ڪمپنين سان ڳٺ جوڙ آهي ۽ هر مهيني اهي انهن کان منٿليون وٺن ٿا ۽ پنهنجا ماڻهو رکن ٿا ان لاءِ اهي ان معاملي تي ڳالهائڻ لاءِ تيار ناهن

                                                        
 مقامي ماڻهن جا احتجاج  پر وڏيرا انهن کي هائيجڪ ڪري ويا

 آئل اينڊ گئس ڪمپنين خلاف مقامي ماڻهن ڪيترائي احتجاج ڪيا پر انهن احتجاجن کي مقامي وڏيرا هائجيڪ ڪري ويا، جنهن سبب سندن احتجاج بنا نتيجي تي پڄاڻي تي پهتا، ٻئي طرف ڪمپنين مقامي ماڻهن جي احتجاج کان بچڻ ۽ انهن کي هيسائڻ لاءِ رينجرز جون خدمتون پڻ ورتيون آهن جيڪي انهن ڪمپنين اندر مقرر آهن 
            
 اڪثر ڪمپنين  ۾ جي ايم، ايم  ڊي تي آرمي جا ريٽائرڊ آفيسر مقرر ٿيل
 سانگهڙ ضلعي ۾ ڪم ڪندڙ اڪثر ڪمپنين جا ايم ڊي، جي ايم ، ايڊمنسٽريٽر ۽ مٿين پوسٽن تي آرمي جا ريٽائرڊ آفيسر مقرر ٿيل، جيڪي مقامي ماڻهن سان ڳالهائڻ به پسند نٿا ڪن ۽ ضلعي انتطاميا جي پڻ ٻڌڻ لاءِ تيار ناهن. ضلعي جو ڊپٽي ڪمشنر پڻ سندن اڳيان بيوس هجي ٿو

Shahnawaz Khaskheli
2k14/MMC/48 ( Final year)


Improver ( 1st year 2nd semester )

Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi

Labels: ,

Illegal bottled water business

Un edited Shahnawaz Khaskheli
2k14/MMC/48 ( Final year)
Improver ( 1st year 2nd semester )

 منرل واٽر جو غيرقانوني ڪاروبار 

تحقيقاتي رپورٽ

شاھنواز خاصخیلی
 حيدرآباد ۾ صاف پاڻي فراهم ڪرڻ جي نالي تي سوين ڪوڙيون ۽ غيرقانوني اڪمپنيون مضر صحت پاڻي فراهم ڪرڻ لڳيون، شهر جي هر هنڌ تي ڪلين واٽر فلٽر پلانٽ کليل، 95 سيڪڙو اڻ رجسٽرڊ ۽  ان سرٽيفائيڊ، ماڻهن گهرن، پاڙن ۽ مخلتف هنڌن تي هٿرادو فلٽر پلانٽ لڳائي ڇڏيا، مضر صحت پاڻي جو وڪرو جاري،  ننڍو پلانٽ هڪ لک کان ٽي لک ۽ وڏو پلانٽ ويهه کان پنجاهه لک ۾ لڳي ٿو،  ڪيترين ئي جعلي نالن تي ڪمپنيون هلندڙ،  پاڪستان اسٽينڊرڊ ڪوالٽي جي رجسٽرڊ ڪمپنين جي بوتلن ۽ ڪينن ۾ هٿرادو  منرل واٽر جي ڪمپنين جو مضر صحت پاڻي وجهي کپايو پيو وڃي، اسپتالن ۾ اڪثر جعلي ڪمپنين جون منرل واٽر بوتلون پيل، هٿرادو فلٽر پلانٽن ۾ پاڻي مان بيڪٽريا ۽ جراثيم ختم ڪرڻ جو ڪو نظام ناهي، اڪثر پلانٽ اصولن جي ابتڙ هنڌن تي قائم ، ڪيترائي ماڻهو گڙدن، ڪاري سائي ۽ اسڪن جي بيمارين ۾ مبتلا ٿي ويا
  
  حيدرآباد ۽ ڀرپاسي ۾ صاف پاڻي فراهم ڪرڻ جي نالي تي سوين غيرقانوني ڪمپنيون کليل،  مضر صحت پاڻي واپرائڻ سبب انساني صحت داءِ تي لڳل

 حيدرآباد ۽ ان جي ڀرپاسي ۾ ماڻهن گهرن اندر فلٽر پلانٽ لڳائي غيرقانوني طور صاف پاڻي جي نالي مضر صحت پاڻي وڪرو ڪرڻ شروع ڪري ڇڏيو آهي، حيدرآباد شهر جي جر جو پاڻي مٺو نه هئڻ ۽ واٽر سپلاءِ  جو پاڻي صاف نه هئڻ سبب شهر جي نوي سيڪڙو کان مٿي آبادي دڪانن،  جرنل اسٽون ۽ مخلتف ڪمپنين کان پاڻي خريد ڪري واپرائيندي آهي،  جڏهن ته منرل واٽر جو غيرقانوني ڪاروبار ڪندڙن پاڪستان اسٽينڊرڊ ڪوالٽي جي رجسٽرڊ ڪمپنين مثلا نيسلي، اڪوائفينا، پيور ۽ ڪلين سميت ٻين ڪمپنين جي ڪينن ۽ بوتلن ۾ مضر صحت پاڻي وجهي شهر ۾ کپائي رهيا آهن ، ان کان علاوه شهر جي مخلتف گهرن، پاڙن ۽ ڪرائي تي جڳهيون وٺي اتي ڪلين ڊرڪنگ واٽر جي نالي تي غيرقانوني ۽ اڻ رجسٽرڊ ڪمپنيون کولي غيرقانوني طور پاڻي واپرائي رهيا آهن 

 حيدرآباد ۽ ان جي ڀرپاسي ۾ گوڊ لائيف، زيرو، ميرائين، پيورلي، فريش واٽر، موم، اليا،  پيور ڪول، اورئيل، سيف ۽ نيچرل سميت سوين جعلي نالي سان غير قانوني ڪمپنيون پاڻي کپائي رهيون آهن، پاڻي کي سائٽينفيڪ طريقي سان صاف نه ڪرڻ سبب ان پاڻي ۾ جراثيم ۽ بيڪٽريا رهجي ٿا وڃن ٿا جنهن سبب ڪيترائي پاڻي واپرائيندڙ ڪاري سائي، گڙدن ۽ چمڙي جي بيمارين ۾ مبتلا ٿي ويا آهن، جڏهن انتظاميا توڙي وزارت سائنس ۽ ٽيڪنالاجي جي ماتحت صاف پاڻي جي ڪمپنين کي مانيٽر ڪندڙ اداري پاڪستان اسٽينڊرڊ ڪوالٽي ان تي ڪو به قدم نه کنيو آهي ،

  حيدرآباد ۽ ان جي ڀرپاسي هزارين اهڙيون غيرقانوني ڪمپنيون ۽ فلٽر پلانٽ لڳل آهن جيڪي صحت لاءِ هاڃيڪار پاڻي فراهم ڪري رهيا آهن،  پلانٽ  کي پاڪستان اسٽينڊرڊ ڪوالٽي جي لاڳو ڪيل قانونن جي ابتڙ ڪم ڪري رهيا آهن،  عام طور ملندڙ سلينڊرن ، فلٽرن ۽ پاڻي جي وڏين ٽينڪن کي خريد ڪري پلانٽ لڳايو وڃي ٿو، ننڍي پلانٽ جو خرچ هڪ لک کا ن ٽي لک ۽ وڏي پلانٽ جو خرچ ويهه پنجاهه لک رپيا آهي. جڏهن ماڻهو رجسٽرڊ ڪمپنين جو پاڻي مهانگو هجڻ ڪري خريدڻ کان لاچار آهن۽  مقامي طور تيار ٿيندڙ پاڻي سستو آهي، رجسٽرڊ ڪمپني جو 19 ليٽر وارو ڪين 70 کان 90 رپين ۾ وڪرو ڪيو وڃي جڏهن ته غيرقانوني منرل واٽر فلٽر پلانٽن جي پاڻي جو 19 ليٽر واري ڪين 20 کان چاليهه رپين ۾ وڪرو ڪيو وڃي ٿو جنهن سبب ماڻهو سستو پاڻي خريد ڪرڻ کي ترجيح ڏين ٿا

  اسپتالن، بس اسٽاپن ۽ تفريحي هنڌن تي نقلي پاڻي جو وڪرو  
  حيدرآباد جي سرڪاري توڙي پرائيويٽ اسپتالن، بس اسٽاپن ۽ تفريحي جاين تي منرل واٽر جي نالي تي نقلي پاڻي جو وڪرو عروج تي آهي،  اڪثر هنڌن تي نمل، نيچر، لائيف ۽ ڪلين واٽر جي نالي تي غيرقانوني پاڻي جون بوتلون وڪرو ٿيندي نظر اچن ٿيون، جيڪي اڪثر ڪري جي پاڻي کي ڪڍي انهن بوتلن ۾ ڀري وڪرو ڪيو وڃي ٿو، سندس ذائقو پڻ ڪڙو هوندو آهي

 لطيف آباد ۽ قاسم آباد ۾ غيرقانوني فلٽرپلانٽ لڳل 
                                                                                                      لطيف آباد ۽ قاسم آباد غير قانوني منرل واٽر ڪاروبار جا مک مرڪز بڻيل آهن، ٻنهي علائقن ۾ سون جي تعداد ۾ غيرقانوني پاڻي صاف ڪرڻ جا پلانٽ لڳل آهن، جڏهن انهن ٻنهي علائقن مان ڪراچي سميت پوري سنڌ ۾  پاڻي جون بوتلون ۽ ڪين سپلاءِ ڪيا وڃن. ٻنهي علائقن جي غريب آبادي اهو پاڻي واپرائڻ تي مجبور آهي 

  پلانٽ پاڪستان اسٽينڊرڊ اينڊ ڪوالٽي ڪنٽرول قانون جي ابتڙ ڪم ڪندڙ                                                                                                                                      منرل واٽر توڙي فوڊ جي نگراني ڪندڙ ۽ انهن جي ڪمپنين کي  لائسنس جاري ڪندڙ پاڪستان سائنس ۽ ٽيڪنالاجي جي ماتحت اداري جي قانون تحت پاڻي صاف ڪرڻ وارو پلانٽ مٽي ۽ دز کان محفوظ هجي، پاڻي جي باقائدگي سان ريفرشنگ ٿيندي هجي ۽ پاڻي مان بيڪٽريا ۽ جراثيم ختم ڪرڻ لاءِ ڪيمڪيل ڊوز استعمال ڪيا وڃن پر اڪثر پاڻي وارا پلانٽ  روڊن ڀرسان هجڻ ڪري اتي مٽي ۽ دز مسلسل ايندي رهي ٿي ۽ اڪثر پلانٽن ۾ صفائي جو به باقائده نظام ناهي

 غيرقانوني پاڻي جي وڪري ۾ مافيائون ملوث 
  غيرقانوني صاف پاڻي جي وڪري ۾ اڪثر سياسي پارٽين جا اڳواڻ ۽ مقامي طور بااثر ماڻهن ملوث آهن، جن خلاف انتظاميا ڪارروائي کان بيوس نظر اچي ٿي، ان ڏس ۾ هڪ انتظامي عملدار ٻڌايو ته هن هڪ پلانٽ تي ڇاپو هنيو جيڪو هن جي معطلي جو سبب بڻجي ويو، جنهن بعد ڪو به اعليٰ توڙي انتظامي عملدار ان معاملي ۾ هٿ وجهڻ لاءِ تيار ناهي. ان مافيا ۾ گهٽي جي دڪاندار کان وٺي اعليٰ شخصيتون شامل آهن.  

 اڪثر پلانٽن تي گريجوئيٽ نوجوان ڪم ڪندڙ

 حيدرآباد جي اڪثر پلانٽن تي يونيورسٽين جا گريجوئيٽ ۽ پوسٽ گريجوئيٽ نوجوان ڪم ڪندڙ  لطيف آباد جي پلانٽ تي ڪم ڪندڙ نوجوان ٻڌايو ته هن سنڌ يونيورسٽي مان پبلڪ رليشن  ۾  بيچلر ڪئي جڏهن ته بيروزگاري سبب هن هي ڪاروبار شروع ڪيو آهي، شروعاتي طور هن پلانٽ تي ٻه لک رپيا خرچ ڪيو آهي سندس چوڻ ته في الحال هو پنهنجا پئسا ڀري پيو پر ڪاروبار هلي پيو ته منافعي بخش آهي،  جڏهن ته قاسم آباد ۾ پوليٽيڪل سائنس ۾ ماسٽرز ڪيل ٻن نوجوانن پلانٽ لڳائي ڪاروبار شروع ڪيو آهي، سندس چوڻ ته پوليٽيڪل سائنس جو اسڪوپ نه هئڻ سبب هنن ڪاروبار شروع ڪيو آهي ۽ ڪاروبار نوڪري کان بهتر آهي
  
 اڪثر پلانٽن تي  لمس جي واٽر اينڊ ڪوالٽي شعبي جو سرٽيفڪيٽ ٽنگيل
                                                                                                                     لمس يونيورسٽي جو شعبو واٽر اينڊ ڪوالٽي جيڪو مفت ۾ پاڻي جي چڪاس ڪري  ماڻهن کي معلومات ڏيندو آهي ته هي پاڻي پيئڻ جي قابل آهي يا نه، جڏهن ته رجسٽرڊ ڪرڻ سندس اختيار ۾ ناهي، اڪثر پلانٽن تي ماڻهن کي ڌوڪو ڏيڻ لاءِ لمس جي انهيءِ شعبي جو سرٽفيڪيٽ ٽنگيل هوندو آهي يا وري ماڻهن کي اهو ڏيکاريندا آهن.
                                                                            
 اڪثر پلانٽن تي پراڻا فلٽر لڳل، ڪارٽيج به ساڳيا

  حيدرآباد جي انهن غيرقانوني پاڻي صاف ڪرڻ وارن پلانٽن تي پراڻا فلٽر لڳل آهن جڏهن  ته ڪيترن  ئي فلٽر جي ڪارٽيج به تبديل نٿي ڪئي وڃي جيڪا اصولن تحت هڪ مقرر مقدار ۾ پاڻي ڪڍڻ بعد تبديل ڪبي آهي، جڏهن ته ريور پاڻي کي صرف صاف ڪيو وڃي ٿو ۽ ان مان بيڪٽريا ۽ جراثيم ختم  نٿا ڪيا وڃن، جڏهن ته جر جي پاڻي مان سنکيو جي مقدار به گهٽائي نه ٿي وڃي، عام طور تي جر جي پاڻي ۾ سنکيو 12 سئو کان 17 سئو ٽي پي ايس تائين سنکيو ملي ٿو، جنهن کي گهٽائي ٽي کان چار سئو تائين آندو ويندو آهي پر ايئن نٿو ڪيو وڃي، جڏهن ته واٽر کي ريفرش ڪندڙ  واٽر وائيلٽر يا ته ناڪاره بڻيل آهن يا ته بجلي جي لوڊشيڊنگ جو جواز ڄاڻائي انهن کي بند رکيو ويندو آهي جنهن سبب پاڻي صرف صاف ٿي ٻاهر ايندو آهي، جڏهن ته ان بيڪٽريا ۽ جراثيم موجود هوندا آهن 

 عوامي جاڳرتا ۽ حڪومت طرفان ڪا به مهم نه هلائڻ 

 حيدرآباد جي ڪيترن ئي شهرين کي خبر ئي ناهي ته منرل واٽر جي ڪاروبار تي نظرثاني ڪندڙ به ڪو ادارو آهي ۽ انهن ئي اها به خبر ناهي ته ان پاڻي واپرائڻ سان ڪهڙا هاڃيڪار اثر پون ٿا، عوامي جاڳرتا نه هجڻ ۽ حڪومت طرفان عوامي جاڳرتا لاءِ ڪا به مهم نه هلائڻ سبب ماڻهن کي خبر به نه آهي ته اهو پاڻي سندن صحت لاءِ ڪيڏو هاڃيڪار آهي، جڏهن ته جاڳرتا نه هجڻ سبب حيدرآباد ۽ ان جي ڀرپاسي ۾ چمڙي جي بيماري جا مريض عام جام ملن ٿا 

Shahnawaz Khaskheli
2k14/MMC/48 ( Final year) Improver ( 1st year 2nd semester )    
Practical work carried under supervision of Sir Sohail Sangi  

Labels: ,