Wednesday, May 18, 2016

ڈاکٹر نسیم ٹی بی اسپیشلسٹ سے انٹرویو

Questions are weak. same compsoing mistakes
 Pix is required
 I am unable to understand, what u have improved. Sirf Khana puri k hae
سےد وقاص حسےن
2k14/mmc/42
M.A Final (Failure)
انٹروےو 
ڈاکٹر نسےم (T.B Specialist)
س ٹی بی کا ڈاکٹر بننے کی وجہ؟
جواب ہماری فےملی ممبرز مےں کافی لوگ اس مرض کا شکار تھے اور دو سے تےن افراد اسی مرض کی وجہ وفات پاگئے۔ اسی وجہ سے مےں نے اس شعبہ مےں جانے کا فےصلہ کےا۔ 

س پاکستان مےں ٹی بی کے مرےضوں کی تعداد کتنی ہے؟
جواب پاکستان مےں سالانہ تقرےباً 25000 لوگ ٹی بی کے مرض مےں مبتلا ہوتے ہےں۔ 

س ٹی بی کے مرےض زےادہ تر کن علاقوں مےں پائے جاتے ہےں ؟
جواب زےادہ تر ٹی بی کے مرےض گنجان آباد علاقوں مےں پائے جاتے ہےں۔ جہاں صفائی ستھرائی کا کوئی خاطر خواہ انتطام نہ ہو اور جگہ جگہ کچرے کے ڈھےر ہوں۔ 

س اس مرض مےں مبتلا ہونے کی ابتدائی علامت؟
جواب سےنے کا درد، بخار رہنا، تےن ہفتے سے زےادہ کحانسی رہنا اور کھانسی مےں خون آنا

س لوگوں مےں ےہ بےماری کس طرح پھےلتی ہے؟
جواب اس کی وجہ جگہ جگہ تھوکنا، ٹی بی کے مرےض کے ساتھ اےک ہی جگہ رہنا اور چھےنکتے ہوئے احتےاط نہ کرنا۔ 

س اس سے بچاﺅ کے لئے احتےاطی تدابےر؟
جواب فوراً کسی اچھے معالج سے رجوع کرنا، اےکسرے کروانا پرہےز کرنا اور تمباکو نوشی سے پرہےز کرنے سے اس سے بچا جاسکتا ہے۔ 

س عام آدمی کے لئے اس کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا کےسا ہے؟
جواب ابتدا مےں اس کا علاج کافی مہنگا تھا مگر اب حکومت پاکستان کی طرف اس علاج کا مفت معائنہ ہوتا ہے اور جگہ جگہ گورنمنٹ ڈسٹرکٹ مےں اس کے مراقص قائم ہےں۔ جن کو ٹی بی ڈائس کہا جاتا ہے جہاں مفت بلغم ٹےسٹ کے ساتھ مفت آٹھ ماہ کی ادوےات مہےا کی جاتی ہے۔ 

س پھےپھڑوں کو تمباکو نوشی سے کےا نقصانات ہوتے ہےں؟
جواب تمباکو نوشی سے انسان کے پھےپڑے بے حد متاثر ہوتے ہےں کھانسی، نزلہ اور دمہ اس کی ابتدائی نشانےاں ہےں۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے 80% فےصد لوگ پھےپھڑوں کے کےنسر کی وجہ سے مرتے ہےں۔ 

Labels: ,

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال

Same Composing mistakes  u used " ے" instead of  "ی" 
 This left all the piece un readable.
 This is report which needs sources to be quoted, some attribution and quotes from related people

سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 1

حیدرآباد میں صفائی کی ناقص صورتحال
صفائی نصف اےمان ہے "ےعنی صفائی آدھا اےمان ہے"کسی بھی ترقی ےافتہ معاشرے مےں صفائی کا خاص خےال رکھا جاتا ہے چاہے وہ سڑکےں ےا بازار ہوں ےا پھر لوگوں کے اپنے گھروں کی ۔ بدقسمتی سے ہمارے مےں اس چےز پر کوئی خاص توجہ نہےں دی جاتی۔ جس معاشرے مےں صفائی کا نظام خراب ہو اس معاشرے مےں مختلکف قسم کی بےمارےاں پےدا ہونے لگتی ہےں۔ ہمےں چاہئے کہ خود بھی صاف رہےں اور اپنے شہر کو بھی صاف رکھےں۔ اور اگر لوگ صفائی رکھنے مےں کوتا ہی کرےں گے تو ہمارے ملک کے موجودہ حالات سے توسب ہی واقف ہےں۔ 
آج پاکستان مےں زےادہ تر شہری صفائی کے نظام کو چلانے مےں نا کام ہےں اور اس سب سے اہم کردار ہم خود ادا کرتے ہےں۔ اپنے شہر "حےدرآباد" کو ہی دےکھ لےں۔ حےدرآباد شہر مےں صفائی کی کےا صورتحال ہے؟ جہاں کوئی خالی جگہ دےکھی اس جگہ کچرا پھےنکنا شروع کردےا۔ مےرے گھر کے نزدےک اےک خالی پلاٹ کردےا۔ مےرے گھر کے نزدےک اےک خالی پلاٹ تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں نے وہاں کچرا پھےنکنا شروع کردےا اور آہستہ آہستہ دوسرے لوگوں نے بھی وہاں کچرے کے ڈھےر لگا دئےے اور کچھ ہی عرصہ مےں وہاں کچرے کا پہاڑ بن گےا اور اس وجہ سے پورے محلے مےں بدبو پھےلنے لگی اور لوگوں نے وہاں سے گزرنا بھی بند کردےا۔ پھر جب اس جگہ گھر کی تعمےر شروع کی گئی تو کچڑا ہٹوانے کے لئے ہزاروں روپے کا خرچہ آےا اور ےہ سارا نقصان لوگوں کی کوتاہی اور سستی کی وجہ سے ہوا۔ 
اسی طرح اگر ہم اپنے شہر کے مختلف علاقوں پر نظر دوڑائےں تو آپ کو کئی اےسی جگہےں دکھائی دےں گی اگر آپ تلک چاڑی اترتے وقت اس کی بائےں جانب دےکھےں تو آپ کو کچرے کی نہر دکھائی دے گی اصل مےں وہ کوئی نہر نہےں، بلکہ وہ اےک سڑک ہے جو گاڑےوں کی آمد و رفت کے لئے بنائی گئی تھی مگر افسوس لوگوں نے اسے کچرے کا ڈھےر لگا کر بند کردےا ہے۔ اکثر وہاں سے گزرتے وقت کچرے کی بدبو کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مگر بات ابھی ختم نہےں ہوئی اگر ہم لطےف آباد نمبر 12چلے جائےں تو وہاں سڑک کے دونوں اطراف سےورےج نالے کے کچرے سے بھرے دکھائی دےتے ہےں اور اسی کے گردی سبزی اور پھل فروڈ ٹھےلے لگائے کھڑے ہوتے ہےں۔ اسی طرح قاسم آباد اور سٹی کے بھی بہت سے علاقے اےسے ہےں جہاں سالوں سے کچرے کے ڈھےرے لگے ہوتے ہےں جس کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والوں کو پرےشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
اگر بات کی جائے صفائی کا نظام دکھنے والے ادارے بلدےہ کی تو اس کا بھی صفائی کا نظام خراب کرنے پر آئے دن سےورےج کا پانی کھڑا رہتا ہے جس کو دےکھنا بلدےہ کا کام ہے مگر اس ادارے کے ملازمےن اپنے کام کو صحےح طرح سے انجام نہےں دےتے جس کی وجہ سے عوام کو مشکالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلدےہ ملازمےن کو تنخواہےں نہ ملنا بھی اس کام مےں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔ ان ملازمےن کی تنخواہےں کےوں روکی جاتی ہےں اس بارے مےں کوئی معلومات حاصل نہےں ہوسکےں۔ 
بلدےہ اعلی کے حکام کے مطابق صفائی کے لئے بلدےہ کا بجٹ تقرےباً "42" کروڑ روپے ہے۔ بلدےہ مےں سےنٹری ورکرز کی کل تعداد "1194" ہے۔ اور سپر وائےزر اور دوسرے اسٹاف کی کل تعداد "170" ہے۔ 
ٹرےکٹر، ڈمپر اور دوسری گاڑےوں کی تعداد "29" ہے۔ شہر سے ےومےہ "700" ٹن کچرا اٹھاےا جانا چاہئے لےکن بلدےہ کے پاس کچرا اٹھانے کی گنجاﺅش "600" سے "650" ٹن ہے۔ کچرے کے لئے کوئی ڈمپنگ اےرےاز مختص نہےں کئے گئے۔ اور سےورےج کے پانی کو سےدھا سمندر مےں چھوڑا جاتا ہے۔ اب بلدےہ اعلی کو چاہئے کہ سےورےج کے پانی کے لئے مخصوص نہرےں بنائی جائےں تا کہ وہ سارا پانی دودسرے ممالک کی طرح ہم بھی زراعت کے استعمال مےں لے سکےں اور کچرے کے لئے کچھ ڈمپنگ اےرےاز بھ µ مختص کئے جائےں تا کہ اس سے بھی ہم بجلی بنانے اور دوسرے ضروری کاموں مےں استعمال کرسکےں۔ ہر علاقے مےں اےک بڑا ڈسٹ بن رکھ دےا جائے تا کہ پورے علاقے کا کچرا اےک ہی جگہ جمع کےا جاسکے اور شہرےوں کو بھی چاہئے کہ ادھر ادھر کچڑا پھےنکنے کے بجائے اےک مخصوص جگہ پر کچرا پھےنکا کرےں تا کہ ان کے ارد گرد کا ماحول صاف رہے اور ان کا شہر حےدرآباد بھی ۔
#Hyderabad, #Sanitation, 

Labels: , ,

حیدرآباد میں پلاسٹک کی اشیاءکو دوبارہ استعمال کرنے کا کاروبار

Same Composing mistakes  u used " ے" instead of  "ی" 
 This left all the piece un readable.
 This is report which needs sources to be quoted, some attribution and quotes from related people. More figures and facts


سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 2
حیدرآباد میں پلاسٹک کی اشیاءکو دوبارہ استعمال کرنے کا کاروبار 
پلاسٹک اےک اےسا مادہ ہے جس کو اگر اےک مخصوص درجہ حرارت پر پگھلا ےا جائے تو اس کو جس طرح کی شکل دےنا چاہےں اور اسی شکل مےں ڈھل جاتا ہے۔ پلاسٹ کو پگھلانے کےلئے اےک مخصوص درجہ حرارت ہوتا ہے جو کہ (150oC) ہے اور پرانے پلاسٹ کو پگھلا کر پوری دنےا مےں پلاسٹک کو ری سائےکل کرنے کے لئے شہری علاقوں سے دور کسی وےران علاقے مےں فےکتری لگانے کا انتخاب کےا جاتا ہے۔ اور خاص طور پر اس کی جانچ پڑتال کر کے اور اس مےں فالتو کچڑا نکال کر اسے (150oC) کے درجہ حرارت پہ پگھلاےا جاتا ہے اس طرح وہ پلاسٹک دوبارہ استعمال کے قابل ہوجاتا ہے۔ اور اسے کسے بھی شکل مےں تبدےل کےا جاسکتا ہے۔ (150oC) کے درجہ حرارت سے پلاسٹک مےں موجود تمام جراثےم مرجاتے ہےں چاہے وہ پلاسٹک اس سے پہلے کسی بھی چےز کے لئے استعمال ہوا ہو۔ اور ےہ سارا عمل حکومتی اداروں کے بنائے گئے قوانےن کے مطابقی ہوتا ہے۔ 
اگر ہم اپنے شہر حےدرآباد کی بات کرےں جس کا شمار پاکستان کے بڑے شہروں اور سندھ کے دوسرے بڑے شہر مےں ہوتا ہے۔ ےہاں پر حکومت نے پلاسٹک کو ری سائےکل کرنے کے لئے جامشورو مےں کچھ مےدانی علاقوں کو منتخب کےا ہے ۔ لےکن وہاں تک پلاسٹک پہنچ ہی نہےں پاتا۔ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے وہاں فالتو کچرا اور گتے ہاردی وغےرہ لے جا کر جلادئے جاتے ہےں اور اصل پلاسٹک بےچ راستے سے ہی غائب کردےا جاتا ہے۔ خاص طور پر وہ پلاسٹک جو انجکشن ، ڈرپ اور بچوں کی فےڈر وغےرہ مےں استعمال ہوتا ہے کےونکہ ان چےزوں مےں جو پلاسٹک استعمال ہوتا ہے وہ کچھ اچھی قسم کا پلاسٹک ہوتا ہے اور قےمت مےں بھی بہت مہنگا ہوتا ہے۔ ےہ سارا پلاسٹک ری سائےکل ہونے سے پہلے ہی غےر قانونی طرےقے سے غائب ہوجاتا ہے۔ل 
اگر ہم صرف سول ہسپتال کی ہی بات کرےں تو ےہاں سے جتنا بھی پلاسٹک جاہے وہ ڈرپ، انجکشن کا ہو وہ سب ظاہری طور پر جامشورو کی مخصوص جگہوں پر لے جا کر ری سائےکل کےا جاتا ہے مگر اصل کہانی کچھ اور ہے ہسپتال کا صفائی کا عملہ پلاسٹ کو جمع کرنے اور اسے منتقل کرنے مےں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صفائی کرنے والے سوئپر ڈرئپ اور سرنج وغےرہ کے پلاسٹک کو کچرے مےں پھےنکنے کے بجائے اےک جگہ جمع کرلےتے ہےں اس کے بعد مخصوص مقام پر منتقل کرتے ہےں۔ پہلے ےہ لوگ دوائےں بھی چراتے تھے لےکن اب ان لوگوں نے پلاسٹک سے کافی منافع ہوتا ہے۔ پہلے ان کو دوائےاں اس لئے بھی چرانی پڑتی تھےں۔ کےونکہ ےہ لوگ پہلے سےدھا کےا ڈپوں کو ےہ پلاسٹک نہےں بےچتے تھے۔ بلکہ اےک پورا ٹھےکا ہوا کرتا تھا جس کا ٹھےکےدار ان لوگوں سے کم پےسے مےں خرےد کر آگے زےادہ پےسوں مےں فروخت کرتا تھا اور اس ٹھےکے کی سرپررستی سول ہسپتال کے اعلی حکام کےا کرتے تھے کچھ عرصہ پہلے مےڈےا کے لوگوں نے چھاپا مار کر ان لوگوں کا سہارہ کچا چٹھا لوگوں کے سامنے کھول دےا تھا۔ لےکن ان لوگوں نے دوسرا راستہ اختےار کرتے ہوئے ےہ کام جاری رکھا۔ 

Labels: ,

جنریٹر کا رجحان بڑھتا ہوا بزنس

It should be atleast 600 words
Composing mistakes
Same Composing mistakes  u used " ے" instead of  "ی" 
 This left all the piece un readable.
 This is report which needs sources to be quoted, some attribution and quotes from related people. More figures and facts
سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 3
جنرےٹر کا رجحان اےک بڑا بزنس 
توانائی کسی بھی ملک کی معےشت کو فروغ دےنے اور لوگوں کو سہولےات فراہم کرنے کے لحاظ سے رےڑھ کی ہڈی کی حےثےت رکھتی ہے اور خاص طور پر توانائی اگر بجلی کی شکل مےں ہو تو گزشتہ دس پندرہ سال سے پاکستان مےں بجلی کا بحران ہے جس کی وجہ سے ملکی معےشت بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ اس کا گہرا اثر ےہاں کی عوام پہ پڑا ہے۔ سن 2000 سے بجلی کی لوڈ سےڈنگ کا آغاز ہوا جو رفتہ رفتہ ہمارے سسٹم کا حصہ بن گےا اور لوگوں کو اس کا عادی ہونا پڑا۔ بجلی کے متبادل ذرائعہ کے طور پر مکتلف مشےنری کا سہارا لےا گےا جن مےں جنرےٹر سر فہرست ہے ۔جنرےٹری بجلی کے متبادل کے طور پر بہت کامےابی سمجھا جانے لگا اور ملکی معےشت کو سہارا دےنے کے لئے اس کا استعمال ہر ادارے، فےکٹری ےا کاروباری حضرات کو کرنا پڑا۔ 
اگر حےدرآباد کی بات کی جائے تو ےہاں بھی جنرےٹر کا کاروبار بڑی تےزی سے ابھر کے سامنے آےا ہے سن 2000 سے ےہ کاروبار شروع ہوا اوعر جےسے جےسے لوڈ شےڈنگ مےں اضافہ ہوا اس مےں بھی تےزی سے اضافہ ہوا سن 2008 سے ےہ کاروبار عروج پکڑ گےا ۔ ڈےلر حضرات کا کہنا ہے ےہ اےک منافع بخش کاروبار ہے اور ہر پےس پر ان کو 4سے 5ہزار روپے کا منافع ہوتا ہے اسی طرح وہ مہےنہ مےں اوسطاً 30سے 40 جنرےٹر فروخت کرتے ہےں اور اس بھی سےزن کا بڑا اثر ہوتا ہے تقرےباً 40سے 50 کمپنےز کے جنرےٹر ہےں جس مےں معےاری اور غےر معےاری (چائنہ) بھی شامل ہےں شہر حےدرآباد مےں جنرےٹر فروخت کرنے کی تقرےباً 30سے 40دکانےں، ہےں اور اس کے مسطری (مکےنک) کی تعداد بے شمار ہے۔ 
جنرےتر مےں کئی قسم کے اور سائز کے جنرےٹر ہوتے ہےں جس مےں اسکول بےگ سے لے کر ہاتھی کے سائز جتنے جنرےٹری بھی ملتے ہےں۔ مکےنک حضرات کا کہنا ہے کہ لوگ ہمارے پاس ہر سائز کے جنرےٹر لے کر آتے ہےں اور مختلف قسم کی خرابےوں کا ذکر کرتے ہےں جن مےں وولٹےج کا کم زےادہ ہونا ہے۔ جنرےٹر کور پٹرول سے گےس پہ منتقل کرنا، اس کی سروس کرنا۔ 
مکےنک کا کاروبار بھی حےدرآباد مےں کافی زور پکڑ چکا ہے ہر گلی ہر سڑک پہ آپ کو مکےنک کی دکان نظر آئےگی۔ جب اس سے پوچحا گےا تو ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار مےں ان کو اوسطاً منافع ہوتا ہے اور وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پےٹ پلاتے ہےں جس طرح سے موٹر سائےکل کی فروخت مےں اضافہ ہوا ہے وےسے ہی مکےنک کا کاروبار بھی فروغ پاتا جارہا ہے۔ حےدرآباد شہر مےں کھو کھر محلہ مکےنک کاروبار کا مرکز ہے جہاں پورے شہر سے لوگ اپنی گاڑےوں کی مرمت کروانے آتے ہےں اور اپنی گاڑےوں کو خوبصورت بنوانے کے لئے مکےنک حضرات سے مختلف مشورے بھی لےتے ہےں۔ 

Labels: ,

حیدرآباد میں شدید گر می میں لوگ کیا کرتے ہیں۔


سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
Investigative Report 4
حےدرآباد مےن شدےد گر می مےں لوگ کےا کرتے ہےں۔ 
حےدرآباد پاکستان کا چھٹا بڑا اور سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے وےسے تو حےدرآباد اپنی ٹھنڈی ہواﺅں کی وجہ سے بہت مشہور ہے مگر گزشتہ چند سالوں مےں ےہاں گرمی مےں بے پناہ اضافہ ہوا ہے سندھ کے دوسرے شہروں کی طرح حےدرآباد مےں گرمی مےں ہر سال اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہےں او پر سے رہی سہی کثر لوڈ شےڈنگ نے پوری کردی ہے اےسے مےں لوگ حےدرآباد کے تفرےحی مقام المنظر کا رخ کرتے ہےں درےائے سندھ کے کنارے اےک خوبصورت تفرےحی مقام المنظر ہے جہاں اکثر جمعہ اور اتوار کے دن لوگوں کا رش دےکھے مےں آتا ہے شدےد گرمی کی وجہ سے لوگ اس مقام کا رخ کرتے ہےں اسکے علاوہ پھلےلی بھی اےسا ہی تفرےح مقام ہے لوگ ان مقامات کا رخ کرتے ہےں اور گرمی کی شدت کو کم کرنے کا ذرےعہ سمجحتے ہےں۔ مگر اس مقام کا سےاہ پہلو ےہ بھی ہے کہ ےہاں اکثر نوجوان ڈوب کر بھی مرجاتے ہےں۔ سال 2014 مےں پھلےلی کے مقام پر دو نوجوان ڈوب کر ہلاک ہونے جن کی عمرےں 23 اور 25 سال تھےں اسی طرح سال 2014 مےں درےائے سندھ مےں لطف آباد نمبر 10 کے مقام پر اےک نوجوان ڈوب کر ہلاک ہوا۔ سال 2015 مےں بھی پھلےلی نہر مےں 2نوجوان ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں کے بعد ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نہانے پر پابندی لگاتی ہے جو کچھ عرصے بعد اغٹھائی جاتی ہے۔ گرمےوں مےں شہر حےدرآباد مےں مختلف قسم کے مشروبات کا استعمال بھی لوگ خوب کرتے ہےں جن مےں گنے کا رس بہت لطف دےتا ہے اس کے علاوہ املی آلو بخارے کا شربت، تربوز کا شربت، بادام کا شربت، لےموں پانی، تھادل جو کہ مختلف قسم کے مےوہ جات سے ملا کر بنا ےا جاتا ہے اور لہسی جس کا کوئی مشروب مقابلہ نہےں کرسکتا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ےہ مشروبات پی کر وہ گرمی کی شدت کو کم کرنے اور ذہنی تھاکوٹ کو دور کرنے کے لئے پتے ہےں۔ سال 2016 کو گرم ترےن سال قرار دےا گےا ہے اور حالےہ دنوں حےدرآباد مےں سورج آگ بر سارہا ہے اور ہےٹ اسٹروک کی بھی نشانےاں ظاہر ہورہی ہےں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لوگ صبح 10بجے سے شام 4بجے تک غےر ضروری گھر سے نہ نککلےں اور اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھےں۔ گرمی کی حالےہ ہر کے باعث لطےف آباد نمبر 8 کی تاجر برادری نے کاروبار کو رمضان نے اوقات مےں دن کے ٹائم بند رکھنے اور افطاری کے بعد سے سحری تک جاری رکھنے کی تجوےز دی ہے جس کی اصل وجہ گرمی کی حالےہ لہر ہے اور لوگ اس قےامت خےز گرمی مےں بازاروں کا رخ کرنے سے بھی گےز کررہے ہےں۔ حےدرآباد کے شہری شدےد گرمی مےں شامل کے اوقات مےں بازاروں اور تفرےحی مقامات کا رخ کرتے ہےں اور لرزہ خےز گرمی کی وجہ سے اپین ساری تھکان اتارتے ہےں۔ شدےد گرمی مےں حےدرآباد کے شہرےوں کے ےہی مشاغل ہےں۔ 

Labels: ,

جی سی ڈی گراﺅنڈ

Feature is reporting based. its main purpose is entertainment. Intro is too weak. 
 for  profile, feature and interview fotos are must. 
There are composing mistakes. u can see u put Y instead of I. 
A writing piece should be of minimum 600  words. This is short.  

سےد وقاص حسےن 2k14/mmc/42 M.A Final (Failure)
فےچر 
جی سی ڈی گراﺅنڈ (حےدرآباد) 
جی سی ڈی ےا جی ٹی سی گراﺅنڈ کے ناموں سے جانا جانے والا ےہ گراﺅنڈ اےک منفرد اہمےت کا حامل ہے ےوں تو حےدرآباد مےں بے شمار مقامات ہےں جن کی پہچان کسی خاص وجہ سے ہوتی ہے مگر جی سی ڈی گراﺅنڈ اےک منفرد مقام ہے جس کو مختلف حوالوں سے جانا جاتا ہے۔ بچپن سے جوانی تک اسی گراﺅنڈ کو دےکھتے بڑے ہوئے۔ 
شروعات مےں ےہ گراﺅنڈ ہوائی اڈے کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔ پھر کافی عرصہ ےہاں کرکٹ کا راج رہا اور دور دراز سے لوگ اس گراﺅنڈ مےں کرکٹ کھےلنے کے لئے آےا کرتے تھے کار ڈرائےونگ سےکھنے والے بھی اسی گراﺅنڈ کا رخ کےا کرتے تھے اور ہمارے موٹر سائہےکل والے حضرات بھی۔ اس گراﺅنڈ کا آدھا حصہ سےورےج کے پانی سے ڈھکا ہوا ہے اور باقی کچھ حصہ کچرے کا ڈھےر بنا ہوا ہے ۔ ےہ گراﺅنڈ حےدرآباد شہر کے بالکل درمےان مےں واقعہ ہے ۔ مےںجب چھوٹا تھا تو لوگ کو ےہ کہتے سنا کہ جو لوگ کرکت بال پکڑنے کے لئے اس گراﺅنڈ مےں بھاگتے تھے ان کے قد بھاگ بھاگ کر چھوٹے ہوجاتے تھے۔ 
اکثر شام کے اوقات مےں اسی گراﺅنڈ کے درمےان واقعہ سڑک سے گزرےں تو ٹھنڈی ہواﺅں سے لطف اندوز ہونے کا موقعہ ملتا ہے۔ 
پچھلے کئی ماہ سے ےہ گراﺅنڈ پانی سے مکمل بھر چکاہے اور مچھلےوں کا تالاب بن چکا ہے۔ اب تو ےہاں مختلف اقسام کے پرندے بھی دےکھنے کو ملتے ہےں جو کہ مختلف علاقوں سے ےہاں کا رخ کرتے ہےں اور اپنی غذا کی تلاش مےں ےہاں آتے ہےں جب کبھی ہل ٹاپ کی چڑھائی سے اوپر چڑھےں تو خاص طور پر موٹر بائےک والے حضرات تو گاڑی پہ قابو ہی نہےں رکھ پاتے اور اس گراﺅنڈ کی وجہ سے ہوا کے تےز جھونکے آپ کو ہلا کر رکھ دےتے ہےں۔ اسی گراﺅنڈ کے اےک طرف اےک مزار بھی ہے اےک پانی کا کنواں بھی جہاں اکثر لوگ نہانے جاتے ہےں اور ان کا ےہ کہنا ہے کہ اس پانی مےں نہانے سے مختل فقسم کی بےمارےاں دور ہوجاتی ہےں۔ اس گراﺅنڈ کے بارے مےں لوگ مختلف قسم کی باتےں کرتے ہےں کوئی ےہاں سے جن بھوتوں کے قصے کہانےاں منصوب کرتا ہے تو کوئی کچھ اسی گراﺅنڈ کے اطراف مےں جم خانہ حےدرآباد ، جی او آر کالونی، اسٹےٹ بےنک اور سی وک سنٹر واقعہ ہے۔ 
شہر حےدرآباد مےں جی سی ڈی گراﺅنڈ اےک منفرد مقام ہے جو کئی سالوں سے مختلف شکلےں اختےار کر چکا ہے چاہے وہ ہوائی اڈا ہو، کرکٹ کا مےدان ہو، کار ےا موٹر بائےک حضرات کے لئے ہاتھ صاف کرنے کی جگہ ہر سال لگنے والی موےشی منڈی ےا عےد پہ لگنے والا کوئی مےلا ےا پھر پرندوں اور مچھلےوں کے لئے ٹھکانہ، جی سی ڈی گراﺅنڈ کے درواے سب کے لئے کھلے ہےں۔ 

Labels: ,