Wednesday, May 18, 2016

کیچڑ کی سیاست

 یہ نہ منظور شدہ ٹاپک ہے اور نہ ہی انویسٹیگیشن رپورٹ۔ آپ نے کوئی کالم کاپی پیسٹ کر کے بھیج دیا ہے


(انویسٹی گیشن رپورٹ)
2K15/MMC/49
MA (Pass)
Syed Muhammad Fahad Ali

کیچڑ کی سیاست 
کیچڑ کی سیاست ، منظر کچھ یوں ہے کہ قطرہ سمندر کا اصل مظاہرہ دیکھنے کیلئے آپ کو مون سون کی بارشوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے جب بارش ہوتی ہے تو چھوٹی چھوٹی نالیوں میں طغیانی آجاتی ہے اور وہ ندی نالوں کی شکل اختیار کرلتیں ہیں ان کے ملاپ سے سڑکیں دریاﺅں کی گزر گاہوں میں تبدیل ہوجاتیں ہیں اور ان دریاﺅں کے ملنے سے شہر ایک بحر بیکراں کا روپ دھارلیتا ہے اور اس کے بعد پانی پانی ہر جگہ پانی کا منظر ہوتا ہے ویسے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنا پانی ہونے کے باوجود ہمارے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر جھگڑا کیوں رہتا ہے؟
ہمارے ہاں ایک گھنٹہ بارش ہوجائے تو ایک ماہ تک اس کے آثار رہتے ہیں اگر آپ سیاح ہیں یا کافی عرصہ بعد بیرون ملک سے پاکستان تشریف لائے ہیں آپ کو ہر گھر کے سامنے ایک تالاب نظر آئے اور ہر تالاب میں درجن درجن بھر بچے کھیلتے نظر آئیں تو آپ بڑے فخر اور یقین کے ساتھ یہ بیان دے سکتے ہیں مگر ٹھہریئے !کہیں ایسا نہ ہو کے آپ کی ذہانت حکمت اور فلسفہ دھرے کا دھرا رہ جائے یہ بیان دینے سے قبل اس بات کا اطمینان کرلیں کہیں واسا (WASA) تو اس شہر پر مہربان نہیں ہے۔ بارش سے قبل ہمارے گلی کوچوں میں مٹی ، دھول بن کراڑتی ہے ۔ اور بارش کے مٹی اور پانی کا آمیزہ جیسے بعض لوگ کیچڑ اور باز لوگ چکر کہتے ہیں اڑتا ہے بڑے بوڑھیا ورخاص طور پر نمازی حضرات اس آمیزے سے اپنے کپڑوں کو بچانے کی ناکام کوشش کرکے اپنے آپ کو پرہیز گار اور معزز ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر بارش کے بعد باہر چہل قدمی کرنے کی صورت میں نقصان کی تمام تر ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے پاﺅں وفانہ کریں اور آپ کینوس بننے کی بجائے پینٹ میں سے لتھڑ ے ہوئے برش کی طرح کیچڑ سے برآمد ہو اور اگر ابھی تک آپ کے ہاتھ پاﺅں سلامت ہوتو لوگوں سے مدد امید نہ رکھے اور لوگوں کو ہنسنے کا زیادہ موقع نہ دے اور سیدھا گھر کا راستہ لیں ۔ بارش کے بعد کیچڑ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے مثلاً احمد فراز کا یہ شعر بارش کے بعد کے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ 
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی 
لوگوں نے میرے صحن سے راستے بنالیے

دیہاتوں ، قصبوں اور کچی بستیوں میں یہ مناظر عام نظر آتے ہیں مگر لوگ اسی صورت میں رستہ بناتے ہیں اگر آپ دیوار تعمیر نہیں کرتے اور دیوار گرنے کی تمام ذمہ داری ہمسایوں پر عائد کی جاتی ہے جیسا کہ انڈیا افغانستان میں غبارہ بھی پھٹ جائے تو ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جاتی ہے الزامات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں فلاں کے گھر سے پانی ہماری دیوار کی بنیادوں میں داخل ہوا فلاں نے گلی میں مٹی ڈلوائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے پانی جمع ہوکر ہماری دیوار کی بنیادوں میں داخل ہوا اور دیوار زمین بوس ہوگئی حیرت کی بات ہے کہ اس معاملے میں معمار حضرات کے فن تعمیر پر کوئی روشنی نہیں ڈالی جاتی اور یوں خواتین کے درمیان لڑائی کی ابتداءمندرجہ بالا الزامات سے ہوتی ہے مگر فریقین پانی ، بنیادوں اور زمین بوس دیوار کو بھول کر ایک دوسرے کے شجرہ نصب تک پہنچ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی سوانح عمری کے اہم واقعات پر روشنی ڈالنا شروع کردیتی ہیں دیکھتے ہی دیکھتے گلیوں چھتوں ، اور کھلے دروازوں اور کھڑکیوں سے بچے اور خواتین نظر آرہی ہوتی ہیں جو حسین موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں گھروں کے بارے میں اپنی معلومات خاصہ میں اضافہ کررہی ہوتی ہیں یہ لڑائیاں زیادہ تر زبانی کلامی ہوتی ہیں اور مخالفین فاصلے پر ہونے کے باعث ہاتھا پائی سے گریز کرتے ہیں۔ بارش شروع ہوتے ہیں ہی کچھ گھروں کو ریڈزون قرار دے دیا جاتا ہے اور ان گھروں کے سربراہ ایمرجنسی کا اعلان کردیتے ہیں مرد حضرات چھتوں کے اوپر مٹی سے بھرے تھال اور خواتین گھر کے برتن اٹھائے کمروں کے اندر اپنی پوزیشن سنبھال لیتیں ہیں پھر اس طرح کی آوازیں سنادیتی ہیں کپڑوں کے صندوق کے اوپر چھت ٹپک رہی ہے ، مسہری پر پانی گررہا ہے ، بستر بھیگ رہے ہیں ، الغرض تھالوں کی مٹی اور گھر کے برتن ختم ہوجاتے ہیں مگر چھت کے سوراخ ختم نہیں ہوتے ۔ فرض کریں اگر بارش میں پانی کی بجائے معدنی تیل برستا تو امریکہ والے دنیا کے تمام بادلوں پر قبضہ کرنے پہ تلے ہوتے اور صورت حال کچھ اسطرح سے ہوتی کہ زمین کے ساتھ ساتھ آسمانوں میں بھی ایک نئی جنگ جاری ہوتی جس میں دہشت گردوں کی روحوں کی تلاش کے تناظر میں تمام اسلامی ممالک کے بادلوں پہ غلبہ کی کوشش کی جاتی ۔ یہاں اگر بات عاشقوں کی نہ جائے تو ظلم ہوگا کیونکہ بارش اور عاشقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ بقول شاعر 
اگر ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
لذت وصل حاصل ہونے کے بعد کس نامراد کا دل چاہتا ہے کہ فراق کی تکلیف جھیلیں ؟ البتہ اگر ناکامی پہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ جائے تو بارش کا منظر کچھ یوں ہوگا۔
اگر کبھی برسات کا مزہ چاہو ، تو آﺅان آنکھوں میں آبیٹھو
وہ برسوں میں کبھی برسے ہیں ، یہ برسوں سے برستی ہیں

ویسے پرانے وقتوں میں بقول شاعر تنہائی کا مزہ یادوں کے سہارے اور وہ بھی برسات کے ساتھ ۔
ٰٰاک شام کی تنہائی ہے اور یہ برسات ہے 
ایسے میں تیری یاد ہے اور یہ برسات ہے

مگر اب موبائل کا دور ہے صرف اک مس کال کے فاصلے پہ محبوب کھڑا ہے ۔ البتہ اگر بیلنس کی کمی ہے تو بارش کا مزا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر کوئی مس کال مل جائے تو کیچڑ مت اچھالیے گا کیونکہ اگر بات بگڑ گئی تو برسات کا مزہ بھی جاتا رہے گا اور تنہائی بھی کاٹنے کو دوڑے گی !!!!

Labels:

پروفائل شرجیل خان


Plz read note on ur other pieces. Ur no wirting piece carries proper file name 
 پروفائل   شرجیل خان
2K15/MMC/49
MA (Pass)
Syed Muhammad Fahad Ali

شرجیل خان پاکستان کرکٹ کا ایک ابھرتا ہوا نام ۔ ایک ایسا نام جس نے بہت ہی تھوڑے عرصے میں اپنی منفرد اور دلکش بیٹنگ کے ذریعے دنیائے کرکٹ میں اپنی پہچان بنائی ان کی پیدائش کا دن بھی ایک بہت خاص دن ہے ایسا دن جو ہمیشہ پوری دنیا کو یاد رہے گا یہ وہی دن ہے جس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیئے ایک الگ وطن حاصل کیا۔ یہ وہی دن ہے جس دن پاکستان معروض موجود میں آیا اس دن یعنی 14اگست کے دن ہی پاکستان کا یہ نوجوان کرکٹر پیدا ہو ا۔ 14اگست 1989کو شرجیل خان پاکستان کے چوتھے بڑے شہر اور سندھ کے دوبڑے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کی پیدائش پر کسی کو بھی نہیں پتا تھا کہ یہ بچہ 26سال کے مختصر عرصے میں نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ پوری دنیائے کرکٹ میں اپنا الگ مقام بنالے گا ۔ شرجیل خان کے والد کا نام سہیل محمود علی زئی ہے ہر باپ کی طرح ان کے والد کی بھی یہی خواہش تھی نہ میرا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا انسان بنے ، بلکہ اپنے ماں باپ کا اپنے وطن کا نام روشن کرے مگر ان کے والد کو اپنی امیدوں پر پانی پھرتا ہوا نظر آیا جب اپنے بچے کو پڑھا ئی سے دور بھاگتا ہوا دیکھا سب سے پہلے محلے کے ایک پرائیوٹ اسکول میں داخلہ کروایا مگر اسکول والوں کی طرف سے ایک ہی شکایت موصول ہوتی رہی کہ بچہ پڑھائی میں بالکل دلچسپی نہیں لیتا جبکہ ساری کی ساری توجہ اس بچے کی کھیل پر مرکوز رہی ہے بالآ خر 2,3اسکول تبدیل کروانے کے بعد بڑی مشکل سے میٹرک کا امتحان بی گریڈ کے ساتھ پاس کیا اور میٹرک ہی میں اپنے اسکول کی نمائندگی کے دوران حیدرآباد ہاکس (Hyderabad Hawlks) کی بھی نمائندگی کی ۔ ان کے والد ان کی طرف سے تفکرات میں گھرے رہتے جبکہ اس لڑکے کا ایک ہی جنون تھا کہ مجھے قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرنا ہے ۔ انٹر کے سالانہ امتحانات کے فراغت کے بعد زیادہ وقت کرکٹ کو دیتے یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد ہاکس کی نمائندگی کے بعد 2سال کے مختصر عرصے میں ہی پاکستان ۔ اے ٹیم میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ۔ اے ٹیم میں شمولیت کے بعد تو گھر والوں کو اچھی امید کی کرن نظر آنے لگی ۔ اے ٹیم میں شمولیت کے بعد ان کے والد نے اپنی کرکٹ سے روکنا بھی بند کردیا تھا اور بالآ خر جید مسلسل کے بعد سچی لگن سے محنت کرنے وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پرکرم کیا اور 2013میں انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ۔ ان کے آغاز کی خبر آئی تھی کہ ان کے والد ، والدہ کے ساتھ ، ان کے اہل خانہ کی خوشی کا عالم دیدنی تھا ۔ ٹی وی پر خبر نشر ہوتے ہی گھر پر آنے والوں کی قطاریں لگ گئیں ۔ فون پر نہ ختم ہونے والی کالز کا تانتا بندھ گیااور ہر کوئی شرجیل سے ملنے کی خواہش اور تمنا کرنے لگا ۔ شرجیل خان کا کہنا تھا کہ دو مواقع ایک سے ہیں جو میں زندگی بھر فراموش نہیں کرسکتا۔ ایک وہ وقت جب مجھے پتہ چلا کہ میرا نام قومی کرکٹ ٹیم میں آگیا اور مجھے پاکستان کی قومی ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز اور شرف حاصل ہوا اس وقت جو میری کیفیت اور حالت تھی وہ ناقابل بیان ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس لمحے مجھے کتنی خوشی اور کتنی مسرت حاصل ہوئی اور دوسرا یاد گار وہ موقع ہے میری زندگی کا جب میں انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی بار میدان میں اترکر اس وقت میں بہت خوش بھی تھا اور پریشان بھی کیونکہ اتنی بڑی ذمہ داری ملی ہے میں اسے ٹھیک طرح سے پورا کربھی سکوں گا یا نہیں مگر میرے دوستوں نے میرے گھر والوں نے اور خاص طور پر ساتھی کھلاڑیوں نے مجھے اعتماد دلایا کہ جاﺅ بے فکر ہو کر اور اپنا گیم کھیلو ، زیادہ سر پر سوار نہ کرنا اور پریشر نہ لینا یہ سمجھنا کہ جیسے تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ میچ کھیلے تھے دب کر نہیں کھیلنا ساتھیوں کے اعتماد سے مجھے فائدہ ہوا ، کیونکہ انٹرنیشنل کرکٹ کا اپنا الگ پریشر ہوتا ہے ۔ کیونکہ پوری دنیا ئے کرکٹ اور خصوصی طور پر آپ کے ملک کے لوگ آپ کی ایک ایک چیز کو نوٹ کرتے ہیں ایک ایک گیند پر تبصرہ کرتے ہیں اور ہر شارٹ پر اپنی رائے دیتے ہیں ۔ 
شرجیل خان نے اپنی محنت اور لگن سے وہ تمام حاصل کیا جس کی امید بہت سے لوگ کرتے ہیں اور ایسے شر سے پاکستان کی نمائندگی کرنے گیا جہاں سے اب تک 4,5لوگوں سے زیادہ کسی کو بھی اتنا بڑا اعزاز نہیں ملا ۔ دل لگی سے کام ہو خلوص اور ایمانداری کے ساتھ محنت ہوتو اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے شعبے میں ضرور کامیاب کرتے ہیں ۔

Labels: ,

چائلڈ لیبر

کیا چائلڈ لیبر کا اردو میں کوئی لفظ نہیں؟ آپ کا یہ مضمون خاصا کاپی پیسٹ لگتا ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ میں نے اس طرح سے آپ کا یہ ٹاپک منظور کیا ہوگا۔
 اپ اپنا نام کبھی محمد فہد علی لکھتے ہیں کبھی فہد علی نقوی لکھتے ہیں ۔ ایک بار فیصلہ کر لو، ہمیں ریکارڈ رکھنے میں دقت ہوتی ہے
What is current, relevant in present conditions, no such reference, U should know what is an artilce

چائلڈ لیبر (آرٹیکل)
2K15/MMC/49
MA (Pass)
Syed Muhammad Fahad Ali
بچے جو کسی ملک کا مستقبل ، سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں ، جب حالات سے مجبور ہوکر ہنسنے کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقینا اس معاشر ے کیلئے ایک المیہ وجود پار ہا ہوتا ہے ۔ یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر نا سور بن کر سماج کا چہرہ داغ دار اور بدصورت کردیتا ہے ۔ پاکستان میں بھی معاشی بدحالی ، سہولیات سے محرومی ، اسحتصال ، بے روز گاری ، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے جگہ جگہ اس المیے کو جنم دے رکھا ہے جو بڑھتے بڑھتے ناسور بنتا چلا جارہا ہے ۔ ساری دنیا ہی اس لعنت کا سامنا کررہی ہے اور اس کے خاتمے کیلئے اقدامت کیے جارہے ہیں لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سماجی ضرورت بن چکی ہے ۔ امیر کے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے پر قابو نہ پائے جانے کی وجہ سے اب لوگ اس کے سوا کوئی راہ نہیں پاتے کہ وہ بچوں کو ابتداءسے ہی کام پر لگادیں تاکہ ان کے گھر کا چولہا جلتا رہے ، ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں ۔ اسکول جانے کی عمر کے بچے دکانوں ، ہوٹلوں ، بس اڈوں ، ورکشاپوں اور دیگر متعدد جگہوں پر ملازمت کرنے کے علاوہ مزدوری کرنے پر بھی مجبور ہیں ۔ قوم کے مستقبل کا ایک بڑا حصہ اپنے بچپن سے محروم ہورہا ہے ۔ مملکت خداداد کے قیام کو ساٹھ سال گزرچکے گر آج تک کسی بھی حکومت نے ٹھوس بنیادوں پر کوئی حکمت عملی مرتب نہیں جس سے چائلڈ لیبر کو روکا جاسکے ۔ اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کو منشور کا حصہ بنایا ۔ معاشرے کے کسی اور طبقے کی طرف سے بھی اس جانب کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔ ایسالگتا ہے کہ ہم نے بحیثیت مجموعی چائلڈ لیبر کو اپنے لیے ناگزیر مجبوری تسلیم کرلیا ہے ۔ بالخصوص ارباب اختیار کو اس ضمن میں کوئی پریشانی لاحق نہیں ۔ 
پاکستان میں بچوں کی مزدوری کا قانون بنے چودہ سال ہوگئے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور خود اس قانون میں بھی نئے عالمی کنوینشنز کے مطابق بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔ مزدور بچوں پر آخری سروے 1996میں ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ملک میں تینتیس لاکھ مزدور بچے ہیں جبکہ یہ صرف باقاعدہ کام کاج جگہوں پر کام کرنے والوں کی تعداد ہے۔ مزدور بچوں کا 80فیصد تو غیر رسمی شعبہ میں ہے جیسے گھروں میں اور کھیتوں میں کام کرنے والے بچے جن کا کوئی سروے دستیاب نہیں ۔ سماجی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق باقاعدہ شعبوں میں کام کرنے والے مزدور بچوں کی تعداد چالیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس میں سے بیس لاکھ مزدور بچے پنجاب میں ہیں ۔ پاکستان میں بچوں کی مزدور سے متعلق جو قوانین ہیں ان میں بچے کی تعریف میں ایسے نو عمر لوگ ہیں جن کی عمر ابھی پوری چودہ سال نہیں ہوئی جبکہ عالمہ کنونشنز میں یہ عمر پندرہ سال ہے ۔ ملک میں پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچکسلولوں سے باہر ہیں اور یہ سب بچے کسی وقت بھی نو عمر مزدور بن سکتے ہیں ۔ 
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی میں گاڑیوں کی ورکشاپوں ، فرنیچر کارخانوں اور ہوٹلوں میں مزدور بچوں کی ایک کثیر تعداد کام کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے بھتہ خشت پر بھی بچوں سے نہ صرف مزدوری بلکہ جبری مشقت لی جارہی ہے۔ 
سیالکوٹ میں جراحی کے آلات بنانے کے کارخانوں میں ہزاروں بچے مزدوری کرتے ہیں اور ملک ان کی محنت سے اربوں روپے کا زرمبادلہ کماتا ہے ۔ یہ بچے ریتی پردھات کے گھسنے سے نکلنے والی دھاتی دھول کو بھی سانس کے ساتھ اندر لے کر جاتے ہیں جو ان کے کام کا بہت خطرناک پہلو ہے اسی طرح ڈینٹنگ پینٹنگ اور فرنیچر کی پالش کرنے والے بچوں کے پھیپھڑے بھی رنگ اور پالش میں موجود مختلف کیمیکلز سے متاثر ہوتے ہیں اور ٹی بی کا باعث بنتے ہیں ۔ کم عمر بچوں کا اپنے والدین سے دور مستریوں کی نگرانی میں کام کرنا بھی بذات خود کئی مشکلات کا باعث بنتا ہے کیونکہ ان ورکشاپوں کے مالکان کا ان بچوں سے کوئی براہ راست رشتہ نہیں ہوتا۔ 
پنجاب کے محکمہ محنت کے ایک اعلی افسر کے مطابق آلات جراحی بنانے کے کام میں بچوں کی مزدوری ان سات شعبوں میں شامل ہیں جنہیں حکومت نے بچوں کے کام کیلئے خطرناک قرار دیا ہوا ہے ۔ دوسرے کاموں میں کان کنی ، کوڑا اٹھانے کا کام ، چوڑی سازی ، ماہی گیروں ، قالین بافی اور چمڑا بنانے کی صنعت شامل ہے ۔ بچوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک کام تو چمڑے کی صنعت کا ہے جہاں بڑی تعداد میں کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں ۔ قالین بافی میں بچے دس سے بارہ گھنٹے پنجوں کے بل بیٹھ کر کام کرتے ہیں جس سے ان کی ہڈیاں مڑجاتی ہیں ۔ 
ملک بھر میں بچے کوڑا اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں جس میں وہ ہسپتالوں کا کوڑا بھی اٹھاتے ہیں جس میں خطرناک بیماریوں میں استعمال ہونے والی پٹیاں ، ٹیکے وغیرہ بھی ہوتے ہیں ۔ بچوں کی مزدوری کے پیچھے ایک بڑی اہم وجہ غربت ہے اور بہت سے والدین اگر پیسوں کے لیے نہیں تو صرف اس لئے بچوں کو کام پر بھیجنا شروع کردیتے ہیں کہ وہ کوئی ہنر تو سکھے گا کیونکہ حکومتی نظام تعلیم میں مستری ، بڑھتی یا ٹیکنیشن اور اسی طرح کے دوسرے ہنر نہیںسکھائے جاتے اور نہ ہی ایسے ہنر سکھانے والے ادارے بھی موجود ہیں ۔ تاہم غربت کے ساتھ کئی اور عوامل بھی اہم ہیں ۔ مثلاً قالین بافی کی صنعت میں بچوں کی بہبود کے لئے آئی ایل او کے منصوبہ پر کام کرنے والے اہلکار کے مطابق قالین بافی میں صرف 22 فیصد بچے خاندان کی غربت کی وجہ سے تھے جبکہ علم کی طرف رغبت دلانے پر 45فیصد بچوں نے قالین بافی کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر سکولوں کا رخ کرلیا ۔ تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات بچوں کی مزدوری کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں اور بنیادی تعلیم سے بھی مزدور بچوں کے حالات میں بہتری آسکتی ہے۔ 
متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے 2005ءمیں اونٹ ریس میں بچوں کے استعمال پر پابندی لگائے جانے کے بعد وہاں سے تقریباً 700بچے واپس پاکستان بھیجے گئے گذشتہ ڈھائی سال کے دوران بچوں کی سمگلنگ میں ملوث چھ سو ملزمان کیخلاف مقدمات درج ہوئے جن میں سے صرف چونسٹھ افراد کو سزائیں سنائی گئیں ۔ 2002ءمیں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا گیا تھا جس کے تحت اس کاروبار میں ملوث افراد کو چودہ سال تک سزا دی جاسکتی ہے۔ پاکستان سے بیرونی ممالک کو بچوں کی سمگلنگ 1979میں شروع ہوئی اور ہنوز یہ دھندہ بڑے پیمانے پر جاری ہے جس کی روک تھام کیلئے حکومت کو مزید سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ 
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں بچوں سے مزدوری لینے کے کام میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امید ہے کہ یہ غیر قانونی کام 2015تک دنیا کے تمام ممالک میں ختم ہوجائے گا ۔ آئی ایل او کے مطابق پاکستان میں مزدور بچوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ تاہم تنظیم کے مطابق ابھی پاکستان میں ہزاروں بچے چوڑیاں بنانے ، سرجیکل آلات کی صنعت ، کوئلے کی کانوں ، گہرے سمند میں مچھلیاں پکڑنے کے کاروبار اور چمڑے کے کارخانوں میں کام کررہے ہیں ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبائی دارالحکمومتوں میں ایک لاکھ دس ہزار سے زائد بچے صرف کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور ہسپتالوں کا فضلہ جمع کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں ۔ اسی طرح ملک بھر میں ڈینٹنگ پینٹنگ کی کی ورکشاپوں ، فرنیچر بنانے کے کارخانوں اور ہوٹلوں پر لاکھوں کے حساب سے بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ۔ 
ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات اور دن بدن مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر خدشہ ہے کہ مملکت خداداد میں بجائے چائلڈ لیبر کم ہونے کے مزید بڑھے گی ۔ لہٰذا چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے صرف حکومتی سطح پر ہی اقدامات کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے خاتمہ کیلئے معاشرہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر مزدوری کرنے والے بچوں کو مفت تعلیم ، علاج معالجہ اور انہیں کفالت فراہم کرنے کے ذرائع مہیا کرناہوں گے اس کے علاوہ کروڑوں کے فنڈ خرچ کرنے والی این جی اوز کو بھی چائلڈ لیبر اور اس کے اسباب کے خاتمہ کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ 



Labels:

میڈم ادیبہ سے انٹرویو

 It is very weak interview 
 DO not use English words, write them in Urdu. 
 With Q and Ans do not put  bracket 
 for interview, profile and feature foto is must. 

سید فہد علی نقوی
2k15/MMC/49
M.A Impover failure
             

 میڈم ادیبہ انٹرویو

آپ MBA FinanceاورMA Economics ہیں ابتداء میں کافی عرصہ سے حیدرآ باد کے مشہور کالج (College Of Excellence For Boys)سے وابستہ رہیںاور اب اپنا ذاتی کالج(Al-Adeeb System Of Learning) کے نام سے چلارہی ہیں
س) آپ کتنے عرصے سے اس شعبے سے منسلک ہیں؟
ج) میں تقریباََ ۳۱ سال سے اس شعبے سے منسلک ہوں۔
س) آپ پہلے بھی بوائز کالج سے منسلک رہیں اور اب آپ نے اپنا کالج بھی کھولا تووہ بھی صرف بوائز کیلئے ۔گرلز کیلئے کیوں نہیں؟
ج) میرا ارادو تھا مگر مجھے تجربہ نہیں تھا گرلز کالج کا اسی وجہ سے میں نے بوائز کالج چلانے کو ترجیح دی۔
س) آپ کا ٹارگٹ کیا ہے اپنے کالج کے حوالے سے ٬ اپنے کالج کو کہاں دیکھتی ہیں آپ؟
ج) ہمارا جو بنیادی مقصد ہے وہ اچھی سے اچھی تعلیم مہیّا کرنا ٬ بزنس اپنی جگہ مگر ٹارگٹ یہ ہے کہ اپنے کالج کو ایک اونچے مقام پر پہنچانا ۔ اس کے لئے میں اور میرا پورا اسٹاف دن رات محنت کر رہے ہیں٬ اور اپنے کالج کو ماشاءاللّہ بہت آگے دیکھتی ہوں۔
س) آپ کے کالج نے اب تک کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہے؟
ج) ہمیں کالج کھولے ہوے ابھی ۲برس بھی پورے نہیں ہوئے ہیں یہ ہمارا پہلا Batchہے ٬ مگر اسکے باوجود ہمارے کالج کو (International Exhibition)کے لئے منتحب کیا گیا تھا جو کہ اسلام آبادمیں منقعد ہو رہاتھامگر بدقسمتی سے یہ ملتوی ہوگیا٬یہ ہمارے کالج کے لئے بہت اعززاز کی بات تھی کیوں کہ اس (Exhibition)کے لئے حیدراباد سے دو کالج منتخب ہوئے تھےایک سٹی کالج اور ہمارا کالج۔
س) اسکی ملتوی ہونے کی وجہ ؟
ج) آئے دن کی ہڑتال٬ملکی حالات اور اوپر سے الیکشن کی آمد۔ ان وجوہات کی بناءپر یہ ملتوی ہو گیا۔
س) آپ کو اسکے ملتوی ہونے کا کتنا نا افسوس ہے؟
ج) بے حد افسوس ہے کیونکہ اس کے لئے ہم نے بہت محنت کی تھی اور ہمارے ۲ طلبہ بھی سلیکٹ ہوئے تھے جو ف ±ل فری اسکالر شپ کے لئے کوالیفائی کرتے پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کے لئے مگر بہرحال ہمیں ا ±مید ہے کہ یہ بہت جلددوبارہ منقعد کیا جائے گا۔
س) تعلیم کے حوالے سے آپ کچھ کہنا چاہیں گی؟
ج) ویسے تو ہمارا پورا نظام خراب ہے خاص طور پر نظامِ تعلیم انتہائی خراب ہے۔ سب کچھ بوڑڈ کے ہاتھ میں ہے ٬ کالج کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کم از کم کچھ تو اختیارات کالج کے ہاتھ میں بھی ہونے چاہیے۔جیسے یونیورسٹی میں سب کچھ ا ±نکے ہاتھ میں ہے ہمیں سب کچھ نہیں مگر کچھ تو ہونے چاہیے۔ جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا۔
س) طلبہ کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی؟
ج) میں تمام طالبعلموں کو یہی کہنا چاہوںگی کہ وہ دل لگا کر تعلیم حاصل کریں٬ یہ نہ دیکھیں کہ فلاں اسٹوڈنٹ نے بورڈ میں پیسے دے کر A-1بنوالیا٬ فلاں پڑھنے میں ایسا تھا ا ±سکا ایسا رزلٹ کیسے آگیا؟ آپ اپنی پوری توجّہ پڑھائی پر رکھیں٬ اگر آپ پڑھ کر Cگریڈ حاصل کرتے ہیں تو آپ A-1بنوانے والے سے کافی بہتر ہیں٬ ایسا نہیں ہے کہ جس نے رزلٹ بنوالیا وہ کامیاب ہو گیا ٬ جو محنت سے پڑھتے ہیں اور جو پیسے دےکر یا سفارش کے ذریعے رزلٹ بنواتے ہیں ا ±ن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ 

Labels: ,